تاریخ شائع کریں۹ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۴۸
خبر کا کوڈ : 381843

جنگ امریکہ سے ہے تو مذاکرات بھی امریکہ سے کریں گے،طالبان

طالبان نے صدر اشرف غنی کی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کردیا
افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی جنگ امریکہ کے خلاف ہے لہذا وہ مذاکرات بھی امریکہ سے کریں گے
جنگ امریکہ سے ہے تو مذاکرات بھی امریکہ سے کریں گے،طالبان
افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی جنگ امریکہ کے خلاف ہے لہذا وہ مذاکرات بھی امریکہ سے کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی  کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی جنگ امریکہ کے خلاف ہے لہذا وہ مذاکرات بھی امریکہ سے کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صدر اشرف غنی کی حکومت سے مذاکرات کو وقت کا زیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی لڑائی امریکی حکومت سے ہے لہٰذا وہ اسی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔طالبان ترجمان نے صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کےقیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت سے بات کرنا وقت کا زیاں ہے۔  واضح رہے کہ افغان صدر نے گذشتہ روز جنیوا میں جاری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے لیے 12 رکنی اعلیٰ کونسل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات کے لیے طریقۂ کار وضع کرلیا ہے اور نو تشکیل شدہ کمیٹی طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کرے گی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس