تاریخ شائع کریں۷ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۴۲
خبر کا کوڈ : 381484

مذاکرات اور کرتار پور بارڈر دونوں مختلف معاملات ہیں

ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے
ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ کرتار پور کوریڈور کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔
مذاکرات اور کرتار پور بارڈر دونوں مختلف معاملات ہیں
ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ کرتار پور کوریڈور کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ کرتار پور کوریڈور کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ بات چیت اور کرتار پور بارڈر دونوں مختلف معاملات ہیں، گزشتہ 20 سالوں سے بلکہ کئی سالوں سے بھارت پاکستانی حکومتوں سے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے، پہلی بار کسی پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر مثبت جواب دیا ہے تاہم بارڈر کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب دوطرفہ تعلقات کا آغاز ہو جائے گا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ ہم سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کی جانب سے دعوت نامے پر کوئی مثبت جواب نہیں دیں گے، جب تک پاکستان بھارت میں دہشت گرد کارروائیاں بند نہیں کرتا بھارت پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا اور نہ ہی سارک کانفرنس میں شرکت کرے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس