تاریخ شائع کریں۱۹ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۵۴
خبر کا کوڈ : 376075

اُرومیا اور صومالیہ کی سرحدوں سے لاشوں کی باقیات کا انکشاف

ایتھوپیا میں کے سرحدی علاقے سے ایک اجتماعی قبر سے 200 لاشوں کی باقیات ملی
صومالیہ کے سابق صدر عابدی محمد عمر کے خلاف تحقیقات کے دوران ملنے والی اجتماعی قبر سے اس الزام کو تقویت ملی ہے کہ سابق صدر نے اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لیے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کرایا۔
اُرومیا اور صومالیہ کی سرحدوں سے لاشوں کی باقیات کا انکشاف
ایتھوپیا میں کے سرحدی علاقے سے ایک اجتماعی قبر سے 200 لاشوں کی باقیات ملی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے المسیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایتھوپیا میں کے سرحدی علاقے سے ایک اجتماعی قبر سے 200 لاشوں کی باقیات ملی ہیں۔اطلاعات کے مطابق صومالیہ اور اُرومیا کے سرحدوں کے درمیان جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والوں کو ایک اجتماعی قبر ملنے کا انکشاف ہوا ہے جس میں سے 200 سے زائد لاشوں کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔

ایتھوپیائی صومالیہ کے سابق صدر عابدی محمد عمر کے خلاف تحقیقات کے دوران ملنے والی اجتماعی قبر سے اس الزام کو تقویت ملی ہے کہ سابق صدر نے اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لیے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کرایا۔

سابق صدر کے دور حکومت میں مخالفین کی بڑی تعداد کو لاپتہ کردیا گیا تھا اور لسانی فسادات میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ سابق صدر کے حکم پر پولیس نے مخالفین کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل کیا۔

سابق صدر عابدی محمد عمر عوامی مطالبے اور شدید احتجاج کے باعث رواں برس اگست میں مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں گزشتہ مہینے کے آخری ہفتے حراست میں لیا گیا تھا۔ سابق صدر کو 13 سالہ دور حکمرانی میں قتل عام، زیادتی اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس