تاریخ شائع کریں۱۹ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۴:۱۱
خبر کا کوڈ : 375957

افغانستان امن اجلاس کا دوسرے دور شروع ہوگیا

مختلف ملکوں کے نمائندے اور متعلقہ ممالک کے نائب وزرائے خارجہ شریک
افغانستان سے متعلق دوسرا اجلاس ماسکو میں شروع ہوگیا ہے جس میں افغانستان کے امور سے متعلق مختلف ملکوں کے نمائندے اور متعلقہ ممالک کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہیں۔
افغانستان امن اجلاس کا دوسرے دور شروع ہوگیا
افغانستان سے متعلق دوسرا اجلاس ماسکو میں شروع ہوگیا ہے جس میں افغانستان کے امور سے متعلق مختلف ملکوں کے نمائندے اور متعلقہ ممالک کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہیں۔

افغانستان سے متعلق ماسکو اجلاس میں تقریرکرتے ہوئے روسی وزیر‍ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ علاقے کے ممالک اور عالمی برادری کو امید ہے کہ افغانستان دہشت گردی اور منشیات سے مربوط جرائم کے اس عبوری دور پر غلبہ  پالے گا ۔

روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ سیاسی طریقے سے اور صرف اس ملک کے ہی سبھی گروہوں کی شرکت اور تعاون سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی دہشت گرد کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان کے اندر اپنے لئے مضبوط اڈے قائم کرکے اس ملک کو علاقے میں بدامنی پھیلانے کے مرکز میں تبدیل کریں۔

روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خطرات کو نابود کرنے کے لئے افغانستان کی مدد کرنا علاقے اور روس کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ افعانستان سے متعلق  ماسکو صلح کانفرنس دوہزار سترہ میں تشکیل پائی تھی جس کا مقصد اسلامی جہوریہ ایران، روس، افغانستان، پاکستان، چین اور ہندوستان کا آپس میں صلاح ومشورہ کرنا اور افغانستان کے بحران کا حل تلاش کرنا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس