تاریخ شائع کریں۱۵ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۳۰
خبر کا کوڈ : 375145

میکسیکو سرحد سے متصل ریاستوں پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات

تارکین وطن کے بڑے قافلے کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پراقدامات
میکسیکو سرحد سےمتصل ریاستوں ٹیکساس، کیلیفورنیا اور ایروزینا میں اب تک 4 ہزار 800 فوجی اہلکار تعینات کردیےگئےہیں ، اس کے علاوہ نیشنل گارڈ کے 2 ہزار سے ریزرو اہلکار بھی فعال ہیں
میکسیکو سرحد سے متصل ریاستوں پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات
وسطی امریکا سے تارکین وطن کے بڑے قافلے کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پراقدامات کیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کرنل بوب میننگ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ میکسیکو سرحد سےمتصل ریاستوں ٹیکساس، کیلیفورنیا اور ایروزینا میں اب تک 4 ہزار 800 فوجی اہلکار تعینات کردیےگئےہیں ، اس کے علاوہ نیشنل گارڈ کے 2 ہزار سے ریزرو اہلکار بھی فعال ہیں، مزید نفری بھیج کر مجموعی طور پر 9 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے آپریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یادرہے کہ امریکی صدرٹرمپ نے کہا تھا سرحد پر 15 ہزار فوجی تعینات ہوں گے، جنہیں مظاہرین پرگولی چلانے کا اختیارہوگا، تاہم ترجمان پنٹاگون نے وضاحت کی کہ فوجی اہلکاروں کو تارکین وطن یا مظاہرین سے براہ راست آمنا سامنا کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

واضح رہے کہ غیر ملکی تارکین وطن کیلئے امریکی صدرٹرمپ کی پالیسی کے خلاف واشنگٹن سمیت پوری دنیا میں مظاہرے ہوئے اور امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کی گئی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس