تاریخ شائع کریں۱۴ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۰۹
خبر کا کوڈ : 374744

مذاکرات میں امریکی رویّہ رکاوٹ ہے

امریکی رویّے میں تبدیلی اور باہمی احترام کی رعایت لازمی شرط ہے
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی رویّے میں تبدیلی اور باہمی احترام کی رعایت لازمی شرط ہے
مذاکرات میں امریکی رویّہ رکاوٹ ہے
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی رویّے میں تبدیلی اور باہمی احترام کی رعایت لازمی شرط ہے

ایران کے وزیر خارجہ نے  امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ اعتماد کی بحالی مذاکرات کے لئے پیشگی شرط نہیں تاہم باہمی احترام مذاکرات کے لئے اہم شرط ہے - ان کا کہنا تھا کہ ایران و امریکہ  نےکسی دو صفحے کے چھوٹے سے سمجھوتے پر دستخط نہیں کئے تھے بلکہ پورے ڈیڑھ سو صفحات  کا یہ معاہدہ تھا پھر بھی امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ مذاکرات میں قابل اعتماد فریق نہیں ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کا پوری عالمی برادری کو سامنا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے مذاکرات میں تعطل سے باہر نکلنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم امریکیوں کے رویّے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ میں اگر نیا صدر برسر اقتدار آتا ہے تو کیا ایران مذاکرات کے لئے تیار ہو گا، کہا کہ اگر  امریکی پالیسی اور رویّے میں تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا تو اسی صورت میں مذاکرات کا امکان پیدا ہو سکے گا -
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس