تاریخ شائع کریں۱۲ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۳۴
خبر کا کوڈ : 374096

سعودی عرب پر پابندیوں کا خطرہ منڈلانے لگا

سعودی عرب کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے انتباہات کے درمیان جرمنی نے اعلان کیا
یورپی ملکوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے انتباہات کے درمیان جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متلعق حقائق واضح نہ ہونے کی صورت میں وہ ریاض پر پابندیاں لگانے پر غور کرسکتا ہے۔
سعودی عرب پر پابندیوں کا خطرہ منڈلانے لگا
یورپی ملکوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے انتباہات کے درمیان جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متلعق حقائق واضح نہ ہونے کی صورت میں وہ ریاض پر پابندیاں لگانے پر غور کرسکتا ہے۔

المیادین ٹیلی ویژن کے مطابق حکومت جرمنی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمال خاشقجی قتل کے پس پردہ محرکات اور اس میں شامل افراد کو بے نقاب کرے۔دوسری جانب ناروے کی وزیر خارجہ اینے ماریے ارکسن سوریدے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق حقائق چھپانے کی وجہ سے سعودی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمال خاشقجی قتل کیس سے متعلق حقائق کا جاننا ہمارے لیے بے انتہاضروری ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کونسل اور جنیوا کی عدالت نے سوئیزر لینڈ کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔انسانی حقوق کونسل اور جنیوا کی عدالت نے انسانی حقوق کے حوالے سے سعودی عرب کے بے انتہا خراب ریکارڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی آمرانہ ماہیت اور استبدادی طرز فکر پوری طرح نمایاں ہوچکا ہے۔مذکورہ دونوں اداروں نے تمام یورپی ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے حوالے سے یکساں موقف اختیار کریں۔درایں اثنا فرانسیسی رکن پارلیمینٹ نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت جاری رکھنے کے بدلے سعودیوں سے بھاری رشوت وصول کی ہے۔باسٹین لاشو نے جمعے کے روز پارلیمینٹ سے خطاب کرتے ہوئے فرانس سعودی عرب تعاون پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی شرمناک ہے اور اس ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت فرانس نے اس خاموشی کے بدلے سعودی عرب سے بھاری رشوت حاصل کی ہے۔انہوں نے یمنی شہریوں کے خلاف سعودی جارحیت کی جانب بھی اشارہ کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ سعودیوں نے یمنی عوام کے خلاف وحشیانہ حملے شروع کر رکھے ہیں اور عام شہریوں نیز انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ فرانس کے صدر عمانو‏‏‏ئیل مکرون نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی قتل کیس کی وجہ سے سعودی عرب کو اسلحے کی سپلائی بند کرنا بقول ان کے فرانسیسی عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔حکومت مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے بہت سے یورپی ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا اعلان کیا جبکہ جرمنی سمیت سے بہت سے ملکوں نے سعودی عرب کو اسلحے کی سپلائی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس