تاریخ شائع کریں۱۰ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۳:۲۹
خبر کا کوڈ : 373504

احتجاج اور دھرنے کے باعث پاکستان میں تعلیمی ادارے بند

پاکستان کے بیشترعلاقوں میں تعلیمی ادارے بند ہیں اور دھرنے جاری ہیں
آسیہ بی بی کی رہائی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث پاکستان کے بیشتر علاقوں میں نظام زندگی جزوی طور پر مفلوج ہے
احتجاج اور دھرنے کے باعث پاکستان میں تعلیمی ادارے بند
ناخوشگوار حالات کے پیش نظر پاکستان کے بیشترعلاقوں میں تعلیمی ادارے بند ہیں اور دھرنے جاری ہیں۔

آسیہ بی بی کی رہائی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث پاکستان کے بیشتر علاقوں میں نظام زندگی جزوی طور پر مفلوج ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور جبکہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کررکھی ہے لیکن اس کے باوجود اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر دھرنوں کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

لاہور میں احتجاج کے پیش نظر میٹرو بس سروس بند ہے جب کہ مال روڈ کی طرف جانے والے راستے بھی بند ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل ہے۔ کراچی میں بھی کئی اہم سڑکوں پر دھرنے جاری ہیں جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث عوام دہری مشکلات کا شکار ہیں۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تمام  جبکہ سندھ میں نجی تعلیمی ادارے بند ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بھی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں تاہم بلوچستان میں تمام نجی و سرکاری تدریسی مراکز آج کھلے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کےوزیراعظم عمران خان  نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

قوم سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں، پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے مطابق ہے، سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کیس میں جو فیصلہ آیا ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ درست نہیں، فیصلے کے بعد بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز واجب القتل ہیں۔ بعض لوگ فوج اور جرنیلوں کو کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کریں۔ سڑکیں بند کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست  ایکشن لینے پر مجبور ہوگی، ریاست سے نہ ٹکرائیں۔ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، نہ ہی سڑکوں پر ٹریفک رکنے  دیں گے۔

واضح رہے کہ کل سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس