تاریخ شائع کریں۱۵ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۵۵
خبر کا کوڈ : 365795

ٹرمپ اہنی غلطیوں کی بھونڈی توجیہ میں مصروف

امریکی صدر نے اپنے ایک اور مضحکہ خیز بیان میں دعوی کیا ہے
امریکی صدر نے اپنے ایک اور مضحکہ خیز بیان میں دعوی کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی کے نتیجے میں تہران کا رویہ بہت حد تک تبدیل ہو گیا۔
ٹرمپ اہنی غلطیوں کی بھونڈی توجیہ میں مصروف
امریکی صدر نے اپنے ایک اور مضحکہ خیز بیان میں دعوی کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی کے نتیجے میں تہران کا رویہ بہت حد تک تبدیل ہو گیا۔

ریاست کنزاس میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی  کے باعث ایران کا علاقائی کردار کم اور اس کے رویے میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔
 ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی دعوی کیا تھا کہ ایران کی علاقائی سرگرمیوں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کی وجہ سے ہوا ہے۔
 امریکی صدر نے یہ مضحکہ خیز دعوی ایسے وقت میں کیا ہے جب ایرانی حکام نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ایران خطے کا ایک بااثر اور طاقتور ملک ہے اور وہ مظلوموں کی حمایت کے اصولی موقف سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔
 ایران نے عراق اور شام کی حکومتوں کی درخواست پر ان ملکوں میں سرگرم امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مشاورت فراہم کی ہے جو ٹرمپ کے مزاج پر گراں گزر رہی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس