تاریخ شائع کریں۱۴ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۱۹
خبر کا کوڈ : 365547

امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں قابل اعتماد نہیں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے
امریکہ نے عالمی معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر کے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے سلسلے میں قابل اعتماد نہیں ہے اور ایران کو امریکہ کے ساتھ گفتگو کرنے کا ہرگز کوئی شوق نہیں ہے۔
امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں قابل اعتماد نہیں
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے نکل کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے سلسلے میں قابل اعتماد نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے عالمی معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر کے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے سلسلے میں قابل اعتماد نہیں ہے اور ایران کو امریکہ کے ساتھ گفتگو کرنے کا ہرگز کوئی شوق نہیں ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے ایران اور یورپی ممالک کے مابین ہونے والے مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یورپی ممالک کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے امریکی انخلا کے نقصان کو پورا کریں۔

دریں اثنا یورپی کمیشن کے چیئرمین جان کلوڈ یونکر نے تاکید کی ہے کہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ یورپ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے اور بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں ایک آزاد فریق میں تبدیل ہو جائے۔

یورپی یورپی کمیشن کے چیئرمین نے آسٹریا کی پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ یورپی یونین، ایٹمی معاہدے پر زور دیتی رہے گی۔انھوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو چاہئے کہ ایٹمی معاہدے کا تحفظ کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی امریکہ کے این بی سی ٹی وی چینل سے گفتگو میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ دنیا کے ملکوں اور یا بین الاقوامی اداروں پر اپنی خواہش یا فیصلہ مسلط کرے۔ انھوں نے کہا کہ یورپ ایٹمی معاہدے کی حفاظت کرتا رہے گا۔

فرانس کے وزیر خزانہ نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ یورپ کے تجارتی تعاون پر کوئی فیصلہ اختیار کرنے کا حق حاصل نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیاں آزادی عمل کے اظہار کا بہترین موقع ہے۔

برونو لے میری نے بھی اسلواکیہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یورپی یونین کو چاہئے کہ ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی پابندیوں کے مقابلے میں انسداد کے قانون میں اصلاح کرے تاکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی یورپی کمپنیوں کو ٹرمپ کی پابندیوں سے بچایا جا سکے۔

ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپ و امریکہ کے اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایٹمی معاہدے کے تحفظ سے متعلق یورپی یونین کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ اسٹیف بلوک نے ہفتے کو ارنا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ، اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتّیس کے تناظر میں ایٹمی معاہدے کو ایک اہم معاہدہ سمجھتا ہے اور وہ اس بین الاقوامی معاہدے کے سلسلے میں یورپی یونین کے موقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتّیس، ایٹمی معاہدے کی تائید و تصدیق نیز اس معاہدے کی توثیق کے ساتھ ساتھ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق سلامتی کونسل کی پہلے کی تمام قراردادوں کی منسوخی کے شامل حامل ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس