تاریخ شائع کریں۱۴ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۴۲
خبر کا کوڈ : 365532

امریکا کی دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی قومی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک نئی قومی حکمت عملی پر دستخط کر دیے ہیں جسے فوری طور پر نافذ العمل سمجھا جائے گا۔
امریکا کی دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی
امریکا نے نام نہاد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی قومی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک نئی قومی حکمت عملی پر دستخط کر دیے ہیں جسے فوری طور پر نافذ العمل سمجھا جائے گا۔

امریکا کی قومی حکمت عملی کے مطابق دہشت گردوں کو حاصل تعاون کی جڑ کاٹی جائےگی،انسداددہشت گردی کے لیے امریکی اقدامات کومنظم اور جدید بنایا جائے گا اور دہشت گردوں کاان کی کمیں گاہوں تک پیچھاکیاجائےگا۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے اقتصادی نظام کو بھی سخت بنایا جائے گا۔

پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا تھا کہ مذہبی شدت پسند گروپ امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جس سے ہر صورت نمٹا جائے گا اور اس حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسی سابق صدر اوباما سے بالکل مختلف ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں سے ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔اس لیے اتحادی ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا ساتھ دینا ہوگا۔

امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف نئی نام نہاد پالیسی کا اعلان ایسے میں کیا ہے کہ جب خود امریکہ عراق، شام اور افغانستان میں داعش جیسے دہشتگرد گروہوں کی ہر قسم کی مدد و حمایت کر رہا ہے اور اس قسم کے دہشتگرد گروہوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ دہشتگردی کے حوالے سے امریکہ کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے اب امریکہ کا اصل چہرہ سب کے سامنے نمایاں ہو گیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس