تاریخ شائع کریں۲۳ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۴۶
خبر کا کوڈ : 359133

رابطوں کا مقصد طالبان کو مذکرات کرنے کے لیے راضی کرنا ہے

افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے اعتراف کیا
افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے اعتراف کیا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین رابطے ہوئے ہیں تاہم ان رابطوں کا مقصد طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے راضی کرنا ہے۔
رابطوں کا مقصد طالبان کو مذکرات کرنے کے لیے راضی کرنا ہے
افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے اعتراف کیا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین رابطے ہوئے ہیں تاہم ان رابطوں کا مقصد طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے راضی کرنا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے اعتراف کیا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین رابطے ہوئے ہیں تاہم ان رابطوں کا مقصد طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے راضی کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہم خیرمقدم کریں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں افغانستان کے چیف ایگزیکیٹوعبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو دو طرفہ خوشگوار تعلقات کو قائم رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ مل جل کر ان دشواریوں پر قابو پالیا جائے گا جس کے لیے دونوں جانب سے مصالحانہ اور مثبت رویہ رکھنا لازمی ہے۔

ہندوستان سے تعلقات پر افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعاون مدد گار ثابت ہوا ہے اور کسی حد تک دفاعی امور پر بھی دو طرفہ دفاعی تعاون ہوا ہے، لیکن افغان سرزمین پر انڈین فوجیوں کی موجودگی کا تاثر یکسر غلط ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر بحث ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس