تاریخ شائع کریں۱۹ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۳:۴۴
خبر کا کوڈ : 323265

افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،

پاک امریکا تعلقات مشترکہ احترام پر مبنی ہونے چاہئیں،اعزاز چوہدری
امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔
افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،
امریکا میں پاکستان کےسفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے سیاسی عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستانی، امریکی اور عالمی میڈیا سے گفتگو کےدوران امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارتی قابض فورسز نے ظلم و بربریت اور ماروائے عدالت قتل کا نیا دور شروع کررکھا ہے، پاکستان اس ظالمانہ اقدامات کی سختی سے مذمت کرتا ہے جب کہ امریکا سمیت عالمی برادری بھارتی مظالم کےخلاف آواز اٹھائے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا تھاکہ پاک امریکا تعلقات مشترکہ احترام پر مبنی ہونے چاہئیں، تشویش اورخدشات دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں، تعلقات میں عدم اعتماد سے انسداد دہشت گردی آپریشن کوبھی نقصان پہنچے گا جب کہ تعلقات میں عدم اعتماد سے افغان امن عمل کو دھچکا لگےگا۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان قیادت کی شمولیت ضروری ہے جب کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے سیاسی عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔

امریکا میں پاکستان سفیر نے مزید کہا کہ اپنی سرزمین کسی کےخلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس