تاریخ شائع کریں۱۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۰۹
خبر کا کوڈ : 315322

افغان طالبان کی امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادگی

افغانستان کی لڑائی ختم کرنے کیلیے مذاکرات کا آغاز کیاجائے:طالبان
۔افغان طالبان کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
افغان طالبان کی امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادگی
افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کردیا۔افغان طالبان کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر میں افغانستان کے اسلامی امارات کا پولیٹیکل آفس افغان بحران کے پر امن حل کے لیے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

امریکا کی جانب سے حالیہ جاری بیان یہ واضح کرتا ہے کہ امریکا اس حقیقت کا ادراک کر رہا ہے کہ افغان مسئلے کا عسکری حل نہیں ہو سکتا اور افغانستان میں گزشتہ17 سال سے آزمائی جانے والی فوجی حکمت عملیاں صرف اور صرف طویل جنگ میں ہی شدت پیدا کریں گی جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔ طالبان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ افغانستان کی لڑائی ختم کرنے کیلیے مذاکرات کا آغاز کیاجائے۔

ہم مکالمے کی راہ تلاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ امریکی حکومت کے نام پیغام میں طالبان نے کہا کہ اگر امریکا افغان عوام کے جائزمطالبات تسلیم کرتا ہے اور کسی پرامن طریقے سے بات چیت کرے تواس سے تصفیہ تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا پرامن تصفیہ چاہتے ہیں۔ بیان میں ایلس ویلز کے بیانات کا حوالہ دیاگیا ہے جن میں امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف جنوبی و وسط ایشیائی امور کی پرنسپل ڈپٹی نائب وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔

امریکا نے گزشتہ برس افغانستان کے لیے اپنی فوجی معاونت بڑھا دی تھی، خاص طور پر فضائی کارروائیوں کو تیز کیا گیا تھا،جس کا مقصد باغیوں سے جاری تعطل ختم کرنا اور اْنھیں مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ علاوہ ازیں افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں 50 دہشت گرد ہلاک اور 32 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

افغان وزارت دفاع نے کہا ہے ملک بھر کے مختلف علاقوں ننگرہار، لغمان، کنڑ، پکتیکا، لوگر، غزنی، فراہ، فاریاب، تخار، بلخ، بغلان، نمروز اورہلمند میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس