تاریخ شائع کریں۱۸ آبان ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۱۷
خبر کا کوڈ : 292721

کوئٹہ میں خودکش حملہ/ڈی آئی جی پولیس حامد شکیل سمیت 3 اہلکار شہید

دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آس پاس کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا
دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آس پاس کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا
کوئٹہ میں خودکش حملہ/ڈی آئی جی پولیس حامد شکیل سمیت 3 اہلکار شہید
کوئٹہ کے علاقے چمن ہاؤسنگ اسکیم کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ڈی آئی جی پولیس حامد شکیل سمیت 3 اہلکار شہید جب کہ پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شدید زخمی ہوگئے۔

پاکستانی زرائع ابلاغ کے مطابق ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس حامد شکیل گھر سے دفتر جارہے تھے کہ چمن ہاؤسنگ سوسائٹی میں ان کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا۔

دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آس پاس کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، واقعے میں حامد شکیل اور ان کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں سمیت راہگیر بھی زخمی ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جہاں عملے نے حامد شکیل اور 2 اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کردی۔

دھماکے میں زخمی 5 اہلکاروں سمیت 7 افراد کو طبی امداد دی جارہی ہے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں تاہم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جارہا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حامد شکیل پر خودکش حملہ کیا گیا تھا، خودکش حملہ آور نے خود کو عین اس وقت بارودی مواد سے اڑایا جب ان کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

دوسری جانب دھماکے سے کچھ گھنٹے قبل ہی پولیس اور ایف سی نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر جتک اسٹاپ،موسیٰ کالونی،سیٹلائٹ ٹاون، چھالوباوڑی اور دیگر ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کیا تھا۔

کارروائی کے دوران پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے 300 سے زائد گھروں کی تلاشی لی اور 41 مشکوک افراد کو حراست میں لیا تھا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں پولیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیام امن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کے معترف ہیں، ڈی آئی جی حامد شکیل جیسے افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس