تاریخ شائع کریں۷ آبان ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۱:۵۸
خبر کا کوڈ : 290859

لاپتہ شیعہ افراد کی عدم بازیابی پر احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کی جائے گی

علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ 19 لاپتہ شیعہ افراد کو باقاعدہ اٹھایا گیا، وزیر داخلہ سندھ کی بات پر یقین ہے، اس لئے احتجاجی دھرنا ختم کر رہے ہیں
لاپتہ شیعہ افراد کی عدم بازیابی پر احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کی جائے گی
مجلس وحدت مسلمین نے کہا ہے کہ اگرشیعہ نوجوان بازیاب نہ ہوئے تو تحریک دوبارہ شروع کی جائے گی۔

پاکستان کے ممتاز عالم دین اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہےکہ اگر حکومت نے شیعہ نوجوانون کوبازیاب نہ کیا تو احتجاج کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جمعہ کی رات کراچی میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ سمیت شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ احتجاجی ریلی 13 گھنٹے مارچ کرنے کے بعد شارع فیصل کے راستے سے ہوتی ہوئی گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچی، جہاں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال اور صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کرنے والے لاپتہ شیعہ افراد کے اہلخانہ اور علمائے کرام سے ملاقات کی، اس موقع پر سہیل انور سیال نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق اقدامات کئے جا رہے ہیں، پولیس تحویل میں موجود لاپتہ افراد سے متعلق انکوائری کا حکم دینگے، اگر پولیس نے لوگوں کو لاپتہ کیا ہے تو کارروائی کریں گے۔

اس موقع پرعلامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ 19 لاپتہ شیعہ افراد کو باقاعدہ اٹھایا گیا، وزیر داخلہ سندھ کی بات پر یقین ہے، اس لئے احتجاجی دھرنا ختم کر رہے ہیں۔ مسنگ شیعہ پرسنز ریلیز کمیٹی کے سربراہ علامہ حسن ظفر نقوی کے اعلان کے بعد احتجاجی شرکاء دھرنا ختم کرکے پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس