تاریخ شائع کریں۶ آبان ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۰:۴۸
خبر کا کوڈ : 290648

حماس سیکیورٹی فورسز کے سربراہ کار دھماکے میں زخمی

اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ غزہ کے سکیورٹی کمانڈر توفیق ابونعیم پر قاتلانہ حملے میں اسرائیل ملوث ہے
اس قسم کی جارحیت سے اسرائیل کا ھدف حماس کو فلسطینی عوام کے حقوق کی جدوجہد سے روکنا اور فلسطینی سرزمین کی آزادی کیلئے جدوجہد کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے
حماس سیکیورٹی فورسز کے سربراہ کار دھماکے میں زخمی
فلسطین میں غزہ پٹی کی حکمران جماعت حماس کے سیکیورٹی فورسز کے سربراہ توفیق ابو نعیم کار دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے جس کو وزارت داخلہ نے 'قتل کی ناکام کوشش' قرار دیا ہے۔

غزہ پٹی کے وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'انٹرنل سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل توفیق ابو نعیم قتل کی ناکام کوشش میں بچ گئے جب ان کی کار میں نصرت مہاجر کیمپ میں دھماکا ہوا'۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'توفیق ابو نعیم زخمی ہوگئے ہیں اور انھیں ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے'۔

وزارت داخلہ کے مطابق 'سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی صورت حال جانچنے اور اس کے ذمہ داروں کو پکڑنے کے لیے تفتیش کا آغاز کردیا ہے'۔

خیال رہے کہ غزہ میں یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب حکمران جماعت حماس حکومتی اختیارات ویسٹ بینک کی فلسطینی اتھارٹی کی جماعت الفتح اور فلسطینی صدر محمود عباس کے حوالے کرنے جارہی ہے۔

فلسطین کی دونوں حریف جماعتیں حماس اور الفتح نے ایک دہائی سے جاری علیحدگی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ سے متحد ہونےکےلیے رواں ماہ ہی ایک معاہدے پر دستخط کردیا تھا۔

معاہدے کے تحت الفتح یکم دسمبر کو غزہ کی حکومت بھی سنبھال لے گی تاہم ماضی میں اس طرح کے تمام معاہدے مسلسل ناکامی کی صورت میں اختتام پذیر ہوچکے ہیں۔

اس واقعے کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ حماس کی جانب سے 25 ہزار کے مضبوط مسلح ونگ سے ہتھیار واپس لینے سے انکار کرے۔

حماس نے 2007 میں فلسطینی انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ پٹی میں حکومت بنالی تھی جبکہ الفتح سے تنازع کے نتیجے میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی تھی تاہم الفتح نے ویسٹ بینک میں حکومت بنا لی تھی اور یوں فلسطین عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔

عالمی برادری اور صدر محمود عباس کی جانب سے غزہ میں قائم حماس کی حکومت کو تنہا کردیا گیا تھا جس کے باعث وہاں کی صورت حال انتہائی خراب ہوگئی تھی جبکہ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا۔

اس موقع پر حماس کے رہنما اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ غزہ کے سکیورٹی کمانڈر توفیق ابونعیم پر قاتلانہ حملے میں اسرائیل ملوث ہے۔

حماس کے رہنما اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے گذشتہ روز اسپتال میں توفیق ابونعیم کی عیادت کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی جارحیت سے اسرائیل کا ھدف حماس کو فلسطینی عوام کے حقوق کی جدوجہد سے روکنا اور فلسطینی سرزمین کی آزادی کیلئے جدوجہد کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطین میں غزہ پٹی کی حکمران جماعت حماس کے سیکیورٹی فورسز کے سربراہ توفیق ابو نعیم کار دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے تھے۔

غزہ پٹی کے وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انٹرنل سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل توفیق ابو نعیم قتل کی ناکام کوشش میں اس وقت بچ گئے جب ان کی کار میں نصرت مہاجر کیمپ میں دھماکا ہوا۔

خیال رہے کہ غزہ میں یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب حکمران جماعت حماس حکومتی اختیارات فلسطینی اتھارٹی کی جماعت الفتح اور فلسطینی صدر محمود عباس کے حوالے کرنے جارہی ہے۔

فلسطین کی دونوں حریف جماعتیں حماس اورالفتح نے ایک دہائی سے جاری اختلافات کو ختم کرتے ہوئے رواں ماہ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس