تاریخ شائع کریں۹ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۱۵
خبر کا کوڈ : 281842

مکہ مکرمہ میں مناسک حج کی ادائیگی

عازمین منیٰ میں آج صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات کے لئے روانہ ہوگئے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا جائے گا
سجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہوگا جس میں حجاج کرام، اللہ رب العزت کے حضور ذکر و تسبیح کیساتھ خصوصی دعائیں کریں گے
مکہ مکرمہ میں مناسک حج کی ادائیگی
عازمین حج منیٰ میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات کے لئے روانہ ہوگئے۔

حجاز مقدس میں مناسک حج کی خیمہ بستی بھی آباد ہوگئی اور عازمین منیٰ میں آج صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات کے لئے روانہ ہوگئے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا جائے گا۔

میدان عرفات میں نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کرنے اور مسجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہوگا جس میں حجاج کرام، اللہ رب العزت کے حضور ذکر و تسبیح کیساتھ خصوصی دعائیں کریں گے، نماز مغرب سے قبل میدان عرفات چھوڑنے کا حکم ہے، اس لیے حجاج میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے اور وہاں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے۔

حجاج کرام مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے قیام اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد منیٰ میں اپنے اپنے خیموں میں جائیں گے اور قربانی کرنے کے بعد بال منڈ وائیں گے، پہلے دن شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرام میں طواف زیارت کرسکتے ہیں۔

سعودی عرب کی نظامت عامہ برائے پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سلیمان الیحییٰ کے مطابق رواں برس 20 سے 30 لاکھ فرزندان اسلام کی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں آمد متوقع ہے۔ 17 لاکھ 53 ہزار 300 عازمین دنیا بھر سے حجاز مقدس پہنچے ہیں۔ جن میں سے 16 لاکھ 50 ہزار عازمین فضائی،88 ہزار 500 زمینی جب کہ 14 ہزار 800 سمندری راستے سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ 34 ہزار سعودی اور سعودی عرب میں ہی مقیم ایک لاکھ 9 ہزار غیر ملکی بھی حج کا فریضہ ادا کریں گے۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے ہیں، ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ مسلسل فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس