تاریخ شائع کریں2017 28 August گھنٹہ 14:47
خبر کا کوڈ : 281487

امریکہ پاکستان کشیدگی: اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ کا دورہ ملتوی

حکومت پاکستان کی درخواست پر ایلس ویلز کا دورہ پاکستان ملتوی کردیا گیا ہے تاہم دونوں حکومتیں باہمی مشاورت سے دورے کی نئی تاریخ کا اعلان کریں گ
ایلس ویلز کے دورے کے شیڈول میں کی جانے والی یہ تبدیلی گذشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا اس نوعیت کا دوسرا مطالبہ ہے
امریکہ پاکستان کشیدگی: اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ کا دورہ ملتوی
 اسلام آباد کی جانب سے قائم مقام امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز کے دورہ پاکستان کو ملتوی کرنے کا مطالبہ نئی امریکی حکمت عملی پر پاکستان اور امریکا کے درمیان بات چیت کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہوا۔

امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے خبر دی ہے کہ حکومت پاکستان کی درخواست پر ایلس ویلز کا دورہ پاکستان ملتوی کردیا گیا ہے تاہم دونوں حکومتیں باہمی مشاورت سے دورے کی نئی تاریخ کا اعلان کریں گی۔

واضح رہے کہ ایلس ویلز کے دورے کے شیڈول میں کی جانے والی یہ تبدیلی گذشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا اس نوعیت کا دوسرا مطالبہ ہے۔

اس سے قبل پاکستان وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورہ واشنگٹن کو ملتوی کرنے کا مطالبہ بھی کرچکا ہے، جنہیں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کی دعوت پر 25 اگست کو امریکی دارالحکومت پہنچنا تھا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کونسل کی سینئر عہدیدار لیزا کرٹس کی سربراہی میں آنے والے امریکی وفد کا دورہ بھی ملتوی ہوجائے گا۔

جنوبی ایشیاء کے لیے نئی امریکی پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی لیزا کرٹس کا آئندہ ہفتے دورہ اسلام آباد متوقع تھا۔

دوسری جانب کابینہ، خارجہ امور اور سیکیورٹی سطح پر تجویز کردہ مذاکرات کا مقصد اس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ امریکا اور پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کی 21 اگست کی تقریر میں واضح کی گئی ہدایات کی روشنی میں اپنے تعلقات کی دوبارہ تعمیر کس طرح کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔

اس حکمت عملی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے امریکی اور افغان فورسز پر ہونے والے مبینہ سرحد پار حملوں کو نہیں روکتا تو تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

ایک جانب جہاں امریکی حکمت عملی پر مشاورت کے لیے اسلام آباد اپنے اتحادیوں بالخصوص چین سے حمایت طلب کرچکا ہے، واشنگٹن کے مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ نئی پالیسی پاکستان اور امریکا کے درمیان فاصلہ بڑھانے کا سبب بنے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdcjove8auqeoxz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس