تاریخ شائع کریں۲ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۰۷
خبر کا کوڈ : 280881

مالی امداد نہیں خدمات کا اعتراف چاہتے ہیں

افغانستان میں امن پاکستان کے لیے بھی بہت اہم ہے تاہم ہمارے کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے
افغانستان کی طویل ترین جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام فریقین کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کامیابی کی ضمانت ہے
مالی امداد نہیں خدمات کا اعتراف چاہتے ہیں
 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ملاقات کی اور نئی امریکی پالیسی سے متعلق آگاہ کیا۔

امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی قدر کرتا ہے اور افغان مسئلے کے حل کے لیے پاکستان سے تعاون کا خواہاں ہے۔

ملاقات کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سفیر پر زور دیا کہ ہم امریکا سے کسی بھی مالی یا عسکری امداد نہیں بلکہ اس کا اعتماد، مفاہمت اور اپنی قربانیوں کا اعتراف چاہتے ہیں۔

افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا دوسرے کسی اور ملک کیلئے اہمیت رکھتا ہے، ہم نے افغانستان میں قیام امن کیلیے بہت کچھ کیا ہے اور کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد و قومی پالیسی کے مطابق جب کہ آئندہ بھی اس سلسلے میں مزید اقدام کرتے رہیں گے۔

سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے لیے بھی بہت اہم ہے تاہم ہمارے کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے، افغانستان کی طویل ترین جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام فریقین کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کامیابی کی ضمانت ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس