تاریخ شائع کریں۱ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۱:۰۹
خبر کا کوڈ : 280699

تکفییریت، شدت پسندانہ افکار کی پیداوار ہے

کبھی یہ شدت پسندی کسی معاشرے میں تنظیمی صورت میں نظر آتی ہے، کبھی یہ کسی نسل پرستانہ اقدام کی صورت میں
اگر ہم اپنے پہلے سے طے شدہ نظریئے اور نتیجے کو دین فہمی اور قرآن فہمی سے مخلوط کردیں گے تو خلل کا شکار ہوجائیں گے
تکفییریت، شدت پسندانہ افکار کی پیداوار ہے
جامعہ مذاہب اسلامی کے چانسلر نے کہا ہے کہ “تکفیری افکار نے ہمیشہ انسانی احساسات کو مجروح کیا ہے.
  
تقریب،خبررساں ایجنسی ﴿تنا﴾ کےمطابق، ڈاکٹر محمدحسین مختاری نےآج صبح ہونے والی ایک علمی نشست میں کہ جسکا عنوان “دین ایران اوردنیا کے کلیسا  ”تھا گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ “تکفیریت نے ہمیشہ انسان کے احساسات کو مجروح کیا ہے کیونکہ ان کے نمونہ عمل شدت پسند افراد تھے”۔

 انھوں نے مزید کہا کہ “کبھی یہ شدت پسندی کسی معاشرے میں تنظیمی صورت میں نظر آتی ہے، کبھی یہ کسی نسل پرستانہ اقدام کی صورت میں جیسےصربوں کے ہاتھوں بوسینیا میں مسلمانوں کی نسل کشی ہوئی یا فلسطینیوں کی اسرائیل کے ذریعے سے ہوئی اور کبھی یہ شدت پسندی کئی ملتوں کو جوڑ کر انجام دی جاتی ہے جیسا کہ القاعدہ اور داعش نے انجام دی”۔

انھوں نے کہا کہ “اس زمانے میں شدت پسندوں کی واضح ترین مثال داعش ہے اور سب پر یہ بات آشکار ہے کہ داعش کا کردار انسانیت کے مقابلے میں ظالمانہ ہے انکا ایک ایک فرد نفسیاتی ہے اور اپنے اندرونی افکار سے لڑتا ہوا نظر آتا ہے، جو چیز ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ کہ ان کی خواہشات انفرادی ہیں ناکہ اسلام و مسلمین  کی مشکلات کہ جن کو وہ حل کرنا چاہتے ہیں، ان کی حالت بیماروں کی سی ہے کہ جس کو انھوں نے معاشرے میں پھیلادیا ہے، داعش اسلام کے لئے فکرمند نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی فکر ہے اور اس کے حل کے لئے انھوں زمین و زمان ایک کر ڈالا ہے۔

انھوں نے کہا کہ “ بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت میں دین سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ان میں بہت سے مشترکات ہیں ان کے اصول عقائد جیسے خدائے واحد پر ایمان، نبوت پر ایمان، جزا و سزا، مکافات عمل پر ایمان بلکہ فروع دین جیسے نمازوں کا انجام دینا  وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ان کے باوجود جو چیز چیلنج ہے وہ یہ کہ دنیا میں مذہب ہمیشہ سے مورد اختلاف رہا ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم دینی متون کی کس طرح سے تفسیر کرتے ہیں اور ایسا ہوا ہے کہ جس کی وجہ سے دوملتوں، دو حکومتوں میں تناو ہوا ہے آپس میں کشیدگی ایجاد ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ“اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دینی مقدس متون اس جہان کے ایک بڑے حصے  کو مودب بناتا ہے اور یہ ادب اور یہ افکار ہر معاشرے میں اپنا رسوخ رکھتے ہیں، ان کو ہم ادب جہان کا نام بھی دے سکتے ہیں ”۔

انھوں نے کہا کہ “اس بنا پر ادیان کے مقدس متون کہ جن کو اپنایا جاتا ہے کہ ان میں بہت کچھ ایسا ہے کہ جو انسانی افکار کے عروج کاسبب ہے، اس لئے ضروری ہے کہ کتب مقدس کو پہنچانا جائے ان کی شناخت کی جائے اس طرح سے کہ جس طرح سے ان کا حق ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ “ شدت پسند فکر کہ جس نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، غلط فہمی کی وجہ سے ہے غلط تفسیر کی بنا پر وجود میں آئے ہیں، دین کے متون کی ایک غیر منطقی تفسیر کی وجہ سے ہے، ایسی فکر کے حامل افراد کو چاہیے کہ اپنے نادرست افکار کو چھوڑ کر صحیح اور شفاف دین کو اس کی جگہ پر لائیں اس سلسلے میں کوشش کریں حقیقت کو تلاش کریں، دین کہ جو فطرت پر مبنی ہے اسے یہ بتائے گا کہ وہ کس مصیبت میں پھنسا ہوا ہے اور یہی بات دینی معاشرے کی ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور یہ کسی بھی عقلمند انسان سے پوشیدہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ، اگر ہم اپنے پہلے سے طے شدہ نظریئے اور نتیجے کو دین فہمی اور قرآن فہمی سے مخلوط کردیں گے تو خلل کا شکار ہوجائیں گے، ظن کا کام ہی یہی ہے کہ وہ انسان کو حقیقت تک پہنچنے نہیں دیتا ہے کیونکہ اس نے پہلے سے طے کرلیا ہے کہ یہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ دین کی بنیاد اور اساس ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس