تاریخ شائع کریں۳۱ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۳۱
خبر کا کوڈ : 280587

کراچی میں ایک نیا معمہ/ انصار الشریعہ نامی دہشتگرد تنظیم سرگرم

پولیس خود اس معمہ پر حیران ہے کہ کیا ان دونوں دہشت گردی کے واقعات میں انصار الشریعہ ملوث ہے یا اس کی آڑ میں کوئی اور تنظیم نیا فساد پیدا کرنا چ
کراچی میں ایک دہشتگرد تنظیم نے نیا معمہ کھڑا کر دیا ہے اور اس دفعہ پالیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث دوسرے گروہ کے دہشتگردوں کا قتل کرنے کے بعد انکی لاشوں کے ساتھ ایک تحریر بھی چھوڑ دی ہے جس پر پولیس والوں کو قتل کرنے والوں کا انجام جیسی عبارت تحریر ہے
کراچی میں ایک نیا معمہ/ انصار الشریعہ نامی دہشتگرد تنظیم سرگرم
کراچی میں ایک دہشتگرد تنظیم نے نیا معمہ کھڑا کر دیا ہے اور اس دفعہ پالیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث دوسرے گروہ کے دہشتگردوں کا قتل کرنے کے بعد انکی لاشوں کے ساتھ ایک تحریر بھی چھوڑ دی ہے جس پر پولیس والوں کو قتل کرنے والوں کا انجام جیسی عبارت تحریر ہے۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا میں عرصہ دراز تک القاعدہ کی اتحادی عسکری کارروائیوں میں ملوث رہنے والی جہادی تنظیم انصار الشریعہ نے چند ماہ پہلے تحلیل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں ختم کردی تھیں، لیکن اس نام سے ایک تنظیم کا کراچی میں ماہ اگست کے دوران دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

اٹھارہ اگست کو انصار الشریعہ نامی تنظیم نے کراچی میں ناردرن بائی پاس کے قریب دو رضا کاورں کو گولیاں مار کر ان پر اپنا پمفلٹ پھینک دیا تھا، لیکن آج صبح اسی مقام سے تین ناقابل شناخت لاشیں پھر ملی ہیں جن کے پاس سے انصار الشریعہ کا پمفلٹ برآمد ہوا ہے، جس پر لکھا ہوا تھا کہ ان قاتلوں نے ہمارا نام استعمال کرکے دو پولیس رضاکاروں کو قتل کیا تھا، اب جو بھی پولیس رینجرز اور سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرے گا اس کا انجام یہی ہوگا۔

انصار الشریعہ کے موجودہ پمفلٹ کے بعد کراچی میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ کیا انصار الشریعہ نامی تنظیم نے کراچی میں سکیورٹی اداروں پر کی جانے والی کارروائیوں پر دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے؟

پولیس خود اس معمہ پر حیران ہے کہ کیا ان دونوں دہشت گردی کے واقعات میں انصار الشریعہ ملوث ہے یا اس کی آڑ میں کوئی اور تنظیم نیا فساد پیدا کرنا چاہتی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس