تاریخ شائع کریں۲۶ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۳۸
خبر کا کوڈ : 279872

جزیرہ گوام کے مسلمانوں کے حالات

جزیرہ گوام میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی تعداد آباد ہے کہ جس میں اپنی خوبصورت ثقافت اور تہذیب کے سبب اضافہ ہوتا جارہا ہے
گوام کی اسلامی انجمن 1990میں بنائی گئی، جو جزیرے کے مسلمانوں کی تمام ضروریات پوری کرتی ہے
جزیرہ گوام کے مسلمانوں کے حالات
بحرالکاہل کے مغرب میں جزیرہ گوام میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی تعداد آباد ہے کہ جس میں اپنی خوبصورت ثقافت اور تہذیب کے سبب اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
  
تقریب،خبررساں ایجنسی﴿تنا﴾ کے مطابق، بحرالکاہل کے مغرب میں جزیرہ گوام میں کہ جو امریکہ کی  قلمرو شمار ہوتا ہے تقریباً ۲لاکھ کی آبادی ہے، یہاں کہ رہائشی پیدائشی طور پر امریکی شمار ہوتے ہیں، اس جزیرے کے امور امریکہ کے ہاتھوں میں ہیں لیکن یہ علاقہ امریکہ کی سرزمین میں شامل نہیں۔

یہاں کے 38/3  فیصد افراد انگلش، 22/2 فیصد افراد چامورو، اور 22/2  فیصد افراد فلپائنی زبان بولتے ہیں۔

گذشتہ روزشمالی کوریا کے خلاف امریکہ کے اقدامات کے رد عمل کے طور پر شمالی کوریا نے گوام پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

ویپ سائیٹ اسلامک نیوز، Islamic News، کے مطابق، جزیرہ گوام میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی تعداد آباد ہے کہ جس میں اپنی خوبصورت ثقافت اور تہذیب کے سبب اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

گوام کی اسلامی انجمن 1990میں بنائی گئی، جو جزیرے کے مسلمانوں کی تمام ضروریات پوری کرتی ہے، اسی انجمن کے توسط سے جزیرے کے مسلمان اسلامی اطلاعات حاصل کرتے ہیں اور اسلام اور دوسرے ادیان میں فرق کو پہنچانتے ہیں۔

گوام میں تنہا مسجد نور ہے جو اس جزیرے کے شہر  مانگیلائو میں واقع ہے  اور وہاں کے مسلمانوں کا عبادی مرکز ہے۔ اس مسجد کا افتتاح 2000میں ہوا لیکن مالی مشکلات کے سبب یہ اس مسجد کے تعمیراتی مراحل مکمل نہیں ہوسکے۔

اس مسجد میں پنجگانہ نماز جماعت، نماز جمعہ اور بچوں کی تربیتی کلاسیں ہوتی ہیں اور یہاں کے مسلمانوں کے آپس میں مل بیٹھ کر گفتگو کرنا اس مسجد کے اہم ترین پروگراموں میں شامل ہے، اسی مسجد میں یہاں کے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم عربی میں دی جاتی ہے اور جمعہ کا خطبہ انگلش زبان میں ہوتا ہے۔

ماہ مبارک رمضان میں افطار اور نماز شب مسجد نور کے خاص پروگراموں میں شامل ہیں، اس مسجد میں عید الفطر اور عید الضحیٰ کی نماز بھی ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی شادیاں اور طلاقیں اور ایصال ثواب پر ختم بھی اسی مسجد میں انجام پاتے ہیں۔

یہاں کے مسلمانوں کے سربراہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو ان سب سے زیادہ پڑے لکھے ہیں اور نمازوں کی امامت بھی کرتے ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس