تاریخ شائع کریں۲۶ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۲۵
خبر کا کوڈ : 279867

لاہور میں عوامی تحریک کا دھرنا/ طاہر القادری کی سابق وزیراعظم پر کڑی تنقید

ماڈل ٹاون کے شہدا کے لواحقین کو نا تو خریدا نہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت انہیں ڈرا سکتی ہے
انقلاب کا نعرہ لگانے پر نوازشریف کو شرم آنی چاہیے، 17 جون کو لاشیں گرانے والے کس منہ سے انقلاب کی بات کرتے ہیں
لاہور میں عوامی تحریک کا دھرنا/ طاہر القادری کی سابق وزیراعظم پر کڑی تنقید
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ منظر عام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں آخری حد تک جائیں گے اور شریف برادران کو پھانسی ہو گی۔

لاہور سے تقریب نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آج مال روڈ پر بیٹھ کر ثابت کر دیا کہ 17 جون کے شہدا تنہا نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاون کے شہدا کے لواحقین کو نا تو خریدا نہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت انہیں ڈرا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں چور تو پکڑا گیا مگر 14 بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا قاتل ابھی باقی ہے جس کا نام شہباز شریف ہے اور نوازشریف کے پیچھے اصل قوت شہبازشریف کا پنجاب میں اقتدارہے۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ نوازشریف کہتے ہیں 70 سال سے تماشا لگا ہوا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ نوازشریف صاحب 35 سال سے تو آپ نے تماشا لگا رکھا ہے، 30 سال سے اقتدار کر کے اپنے صرف خاندان کو خوشحالی دی، آپ کہتے ہیں میں ووٹ کا تقدس بحال کرانا چاہتا ہوں مگر پہلے یہ بتائیں پامال کس نے کیا، آپ نے ہی چھانگا مانگا سیاست پاکستان میں متعارف کروائی۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے 80 کی دہائی میں ایم پی ایز اور ایم این ایز کی بولیاں لگائیں، صدر سے مل کر بے نظیرکی حکومت ختم کروائی، دنیا کی کوئی طاقت انہیں پھانسی کے پھندے سے نہیں بچا سکتی۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ انقلاب کا نعرہ لگانے پر نوازشریف کو شرم آنی چاہیے، 17  جون کو لاشیں گرانے والے کس منہ سے انقلاب کی بات کرتے ہیں۔

طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ باقرنجفی کمیشن رپورٹ میں وزیراعلیٰ  پنجاب کو ذمہ دار قرار دیا گیا تو میں حکومت چھوڑ دوں گا، اگر وہ ذمہ دار نہیں تو رپورٹ کو منظر عام پر کیوں نہیں لاتے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس