تاریخ شائع کریں۲۶ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۱۱
خبر کا کوڈ : 279861

امریکہ شمالی کوریا کشیدگی کم کرانے کے لئے یورپی یونین سرگرم

سیاسی و سلامتی کی کمیٹی نے خارجہ امور کی نمائندہ فیڈیریکا موگیرینی کی قیادت میں ایک مذاکراتی وفد تشکیل دیا ہے
امریکااور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور خطے کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کیلیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی جائے گی
امریکہ شمالی کوریا کشیدگی کم کرانے کے لئے یورپی یونین سرگرم
یورپی یونین نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی کم کرنے کیلیے مصالحت کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق باخبر زرائع نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کی سیاسی و سلامتی کی کمیٹی نے خارجہ امور کی نمائندہ فیڈیریکا موگیرینی کی قیادت میں ایک مذاکراتی وفد تشکیل دیا ہے۔

جس نے برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا ۔ اجلاس کے بعد ایک بیان میں واضح کیا گیا کہ امریکااور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور خطے کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کیلیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔ بیان میں اس بات پر بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام خطے میں خطرے کی علامت ہے جسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکی حکومت شمالی کوریا سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سے امریکی جزیرے گوام پر حملہ کرنے کے منصوبے کو ملتوی کر دیا گیا ہے جس کے بعد ریکس ٹلرسن نے یہ بیان جاری کیا ہے۔ ٹلرسن نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کا دور شروع کرنے کا دار ومدار کم جونگ ان پر ہے۔

تاہم ٹلرسن نے کہا کہ مذاکرات سے قبل شمالی کوریا کو کو اپنا جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنا ہوگا۔دوسری طرف امریکی وزیرِ دفاع جم میٹِس نے خبردارکیا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے امریکی سرزمین پر میزائل حملے کی کوشش کی تو مکمل جنگ ہو گی،میزائل گوام کی جانب بڑھا تو اسے تباہ کردیں گے۔ پینٹاگان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جِم میٹس نے کہا کہ اگر شمالی کوریا نے ایسی کوئی حرکت کی تو کھیل شروع ہوجائے گا۔ دنیا میں کوئی بھی اس وقت تک کسی کو نشانہ نہیں بناتا جب تک وہ خود اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار نہ ہو۔ امریکی وزیرِ دفاع نے بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام پر میزائل حملے کی دھمکی کے متعلق کہا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس قابل ہے کہ وہ چند لمحوں کے اندر یہ جان سکے کہ میزائل کی منزل کیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس