تاریخ شائع کریں۲۴ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۵:۱۳
خبر کا کوڈ : 279609

گھروں کی تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش سے متعلق بین الاقوامی نمائش

پاکستان، ایران، سعودی عرب، امریکا، چین، کینیڈا سمیت بیس سے زائد ملکوں کی دو سو کمپنیوں کی شرکت
نمائش میں پیش کی گئی اشیا عراق، شام اور افغانستان کی تعمیر نو میں اپم ثابت ہوسکتی ہے، شرکا
گھروں کی تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش سے متعلق بین الاقوامی نمائش
کراچی ایکسپو سینٹر ایک بار پھر بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے تحت تین روزہ نمائش جاری ہے۔ نمائش میں پاکستان، ایران، چین، امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، سائپرس، کینڈا، ترکی اور متحدہ عرب امارت سمیت تیئیس ملکوں کی دو سو کمپنیاں شریک ہیں۔

بین الاقوامی نمائش کا افتتاح صوبہ سندھ کی اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی اور سینیٹر سعید غنی نے کیا، اس موقع پر آباد کے چیئرمین محسن شیخانی، سابق چیئرمین حنیف گوہر، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ریحان ہاشمی اور دیگر ملکوں کے عہدیدار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب میں اسپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا کہ "یہ ایک شاندار نمائش ہے، جس نے مختلف ملکوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے، یہاں پڑوسی ایران بھی ہے، چین بھی ہے، دوست امریکا اور سعودی عرب بھی ہے، غرض مختلف ملک موجود ہیں، جو اپنی مصنوعات لے کر آئے ہیں، جس سے سب ملکوں کو فائدہ ہوگا۔" انھوں نے کہا کہ "کچھ برس پہلے کراچی کے حالات اس قدر خراب ہوگئے تھے، امن و امان کی صورتحال اس قدر ابتر تھی کہ غیرملکی تو کیا اپنے بھی لوگ یہاں آنے سے گھبراتے تھے، لیکن الحمدللہ اب حاالت یکسر مختلف ہیں، اب یہاں راتیں دوبارہ جاگنے لگی ہیں، اکا دکا واقعات ہوتے بھی ہیں تو میرے خیال میں دو کروڑ کی آبادی والے شہر میں اتنا تو ہوتا ہی ہے، لیکن ہماری کوشش ہے کہ اسے بھی ختم کردیں گے۔" انھوں نے مزید کہا کہ "روٹی، کپڑا اور مکان، پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے، اس مقصد کے حصول کے لئے ہم آباد کے ساتھ ہیں، جہاں بھی ہماری ضرورت ہوگی، ہم حاضر ہیں۔"

سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ "بلاشبہ نمائش بہترین ہے، مختلف ملک مختلف اشیا لائے ہیں، گو کہ ابھی میں نے نمائش کا دورہ نہیں کیا، لیکن امید ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی نمائش بہترین ہوگی، جو مختلف ملکوں کو آپس میں ملانے کے ساتھ تجارتی اعتبار سے بھی اہم ثابت ہوگی۔"

بین الاقوامی نمائش میں ایران کی یزد ٹائلز کمپنی نے اپنا اسٹال لگایا، جہاں جدید اور خوبصورت ٹالز پیش کئے گئے، شرکا نے تقریب نیوز ایجنسی سے بات چیت میں بتایا کہ " ایرانی ٹالز سبسے منفرد ہیں،ان میں نہ صرف مخصوص رنگ استعمال کئے گئے ہیں، بلکہ اسلامی طرز کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔"

کراچی کے ایک نجی ادارے میں بحیثیت منیجر کام کرنے والے راشد احمد نے کہا کہ "نمائش اچھی ہے، سارے ہی ملک اچھی چیزیں لائے ہیں، لیکن ایران کے ٹائلز اور ماربل مجھے بہت پسند ہے، میں دیکھنے آیا ہوں کہ وہاں کیسے رنگ استعمال ہورہے ہیں، کیا ڈیزائن ہیں، اور سب سے بڑھ کر ان کا معیار کیسا ہے، الحمدللہ، سب کچھ بہت اعلیٰ ہے، یہان ایرانی ٹائلز ملتے ہیں، وہ میں نے استعمال کئے ہیں، لیکن یہاں جو یہ کمپنی لائی ہے، واقعی زبردست ہیں۔"

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا کہ "سستی رہائش ہر شہری کا خواب ہے، اسی مقصد کے حصول کے لئے یہ چوتھی نمائش منعقد کی جارہی ہے، جس میں اسلام آباد کے بعد کراچی میں بھی چار مقامات پر شہریوں کے لئے کم قیمت سستے رہائنشی منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا، جس کے ذریعے کچھ رقم سے ضروت مند افراد کو اپنی چھت میسر آسکے گی۔" انھوں نے کہا کہ "ذمین کے حصول کے لئے سندھ حکومت سے بات ہوگئی ہے، باقی سہولوتوں کی دستیابی کے لئے متعلقہ اداروں سے بات کی جائے گی۔"

نمائش میں پاکستان کی مختلف کمپنیوں نے گھھروں کی چھتیں، دروازے، کھڑکیاں، باورچی خانہ، مہمان خانہ، میز، کرسیاں، شیشہ، آرائشی اشیا، صوفہ اور ماربل و ٹائلز پیش کئے ہیں، جبکہ ایران کی کمپنی نے عمدہ اور اعلیٰ معیار کے ٹائلز اور ماربل متعارف کرایا ہے، جن میں شرکا کی خصوصی دلچسپی دیکھی جارہی ہے، ترکی نے بھی استنبول میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے رہائشی منصوبے پیش کئے ہیں، ترکی کی کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ استنبول میں جائداد کی قیمت کراچی بلکہ دنیا کے بیشتر ملکوں کی نسبت کافی کم ہے، ساتھ ہی ترکی کمپنی نے استنبول میں جائیداد کی خریداری پر ویزا سمیت دیگر سہولتیں بھی پیش کی ہیں۔

بین الاقوامی نمایش کے دوسرے روز کمانڈر کراچی نے نمائش گاہ کا دورہ کیا، سیکورٹی کے ساتھ مختلف اسٹالز کا بھی جائزہ لیا، انھوں نے ہفتہ کی شب کوئٹہ میں آرمی کی گڑی پر خود کش حملہ اور اس کے نتہیجے میں پندرہ افراد کی شہادت پر گہرے غم  و غصہ کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ "کراچی میں تمام مہمانوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی، لوگ بلا خوف و خطر یہاں ائیں۔"
پاکستان کی بحری فوج کے وائس ایڈمرل عارف حسینی نے بھی نمائش میں خصوصی شرکت کی، میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ "یہ نمائش جہاں مختلف ملکوں کے لئے سودمند ثابت ہوگی، وہیں اس سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بھی فائدہ ہوگا، سی پیک منصوبے سے متعدد ملک منسلک ہیں، یہ منصوبہ پاکستان سمیت مختلف ملکوں کی قسمت بدل دے گا۔"

بین الاقوامی نمائش میں تین سو سے زائد اسٹالز لگائے ہیں، جہاں مختلف کمپنیوں کی جانب سے شرکا کو رہائشی اسکیموں سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ گھروں کی تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش سے متعلق مشینری بھی نمائش کی زینت ہے، پاکستان میں متعین کینڈا کے ہائی کمشنر نے بھی نمائش کا دورہ کیا۔

گورنر سندھ محمد زبیر بھی مصروفیات کے باوجود نمائش دیکھنے پہنچے، شرکا کو یوم پاکستان کی مبارک باد دی، میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ "کراچی پاکستان کا دل ہے، کراچی چلے گا تو پاکستان چلے گا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی کے لئے پچیس ارب روپے پیکج کا اعلان کیا ہے، جس سے کراچی میں نئی سڑکیں، سیوریج کا نظام اور پانی کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی، تاہم پچیس ارب روپے میں سے کسی بھی سیاسی جماعت کو ایک پیسہ نہیں ملے گا۔"

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے نمائش میں بھی سیاست کو ملحوظ خاطر رکھا، کراچی کے حالات کا ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومت کو ٹہراتے ہوئے بلدیاتی نظام کو بااختیار اور حقوق دینے کا مطالبہ کیا، میئر کراچی وسیم اختر نے نمائش میں لگائے گئے اسٹالز کا دورہ کیا، اور مختلف ملکوں کو کراچی میں خوش آمدید کہا، انھوں نے کہا کہ " ایکسپو میں اتنے لوگ آئے ہیں کہ یہاں جلسہ بھی ہوسکتا ہے، ماضی کے حالات کی وجہ سے کراچی میں ایسی مثبت سرگرمیاں بند ہوگئی تھیں، لیکن اب ملاقاتیں دبئی میں نہیں، بلکہ کراچی میں ہوں گی۔"

بین الاقوامی نمائش میں آباد کی جانب سے متوسط طبقے کے شہریوں کے لئے کم قیمت مکانات کی تعمیر کے لئے معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ شرکا نے ایرانی ٹائلز اور کینڈا کے زلزلے سے محفوظ رہنے والے تعمیراتی ڈھانچے میں خصوصی دلچسپی لی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بین االقوامی نمائش پر آباد کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر دہشت گردوں کو وارننگ دی کہ "لوگ بھول جائیں کہ کراچی کا پرانا وقت واپس آئے گا، کسی صؤرت کراچی کو پرانے وقت میں نہیں جانے دیں گے، جو بھی ہڑتالیں یا شہر کا امن خراب کرے گا، اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔"

نمائش میں پاکستانی کمپنیوں نے گھروں اور مہمان خانوں کے لئے  انٹیرئیر ڈیزائن متعارف کروائے، اس سلسلے میں شیشے پر خطاطی اور قرانی آیات قابل دید رہیں، جبکہ ڈیسینٹ آرٹ کلیکشن نے جدید لائٹس کے ساتھ گتے، لکڑی اور پلاسٹر آف پیرس سے بنی سجاوٹی اشیا پیش کیں۔

امریکا کی اسٹرلنگ کمپنی اور سعودی عرب نے زلزلہ اور قدرتی آفات سے محفوظ اسٹیل اور لوہے کی اشیا متعارف کریں، کمپنیون کے عہدیداروں کا کہنا تھا " مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یا ایسے ممالک جہاں بڑے بڑے پل، برج یا ریلوے لائنیں وغیرہ پر کام ہر رہا ہے، وہاں ان کی پروڈکٹ بہترین ثابت ہوسکتی ہے، خاص کر عراق، شام اور افغانستان سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک جہاں تعمیر نو کا عمل جاری ہے، وہاں ان اشیا کی کھپت یقینا زیادہ ہے۔"

تین روزہ نمائش  کے اختتام پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا گیا اور آتشبازی کا زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ "بہترین نمائش مدتوں یاد رہے گی۔"
 
 
 
 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس