تاریخ شائع کریں۱۱ آذر ۱۳۹۲ گھنٹہ ۱۰:۰۱
خبر کا کوڈ : 147006
مدینہ منورہ :

آیت اللہ لواسانی مدینہ منورہ میں انتقال فر ما گئے

تنا (TNA) برصغیر بیورو
آیت اللہ سید محمد حسین لواسانی 20 محرم الحرام 1435 ھجری قمری کو 89 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
آیت اللہ لواسانی مدینہ منورہ میں انتقال فر ما گئے

تقریب نیوز (تنا): آیت اللہ سید محمد حسین لواسانی ۲۰ محرم الحرام ۱۴۳۵ ھجری قمری کو ۸۹ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ تقریبا ۵۰ سال پہلے نجف اشرف سے مدینہ منورہ تبلیغ کی غرض سے تشریف لے جانے والے آیت اللہ لواسانی نے دینی علوم اس وقت کے بزرگ علماء کرام سے حاصل کی۔ 

اپنی عمر کی تیسری دہائی میں مکتب اہلیبیت ع کی خدمت کی خاطر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپ کا یہ اقدام نجف کے علماء کے لئے حیرت کا باعث تھا کیونکہ آپ اپنے علمی مقام کی وجہ سے مرجعیت کے منصب پر فائز ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آیت اللہ بروجردی کو جب اس بارے میں اطلاع دی گئی تو آپ نے آیت اللہ لواسانی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور لوگوں کو تاکید کی کہ وہ اس عالم مجاہد کی بھرپور حمایت کریں۔ آپ کی مدینہ منورہ آمد پر وہاں کے ستم دیدہ شیعوں میں خوشی اور امید کی لہر دوڑ گئی اور آل سعود کے ستائے ہوئے شیعہ آپ کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔ آپ نے بھی سیرت آل محمد علیہ السلام کے پیرو ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے غریب شیعہ مسلمانوں کی دامے درمے سخنے مدد کرنا شروع کر دی۔ آپ اہلیبت عترت اطہار علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ضرورت مندوں کے گھروں پر جا کر ان کی ضرورتوں کو پورا فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح حج کے موقع پر زائرین کی خدمت بھی انجام دیتے جس کا منہ بولتا ثبوت مھدیہ منزل کی عمارت ہے جو سارا سال زائرین خانہ خدا کی خدمت کے لئے کھلا رہتا ہے۔ مدینہ منورہ میں ایک شیعہ عالم دین کی موجودگی آل سعود کے لئے نا قابل برداشت تھی اسی لئے آپ کو متعدد مرتبہ گرفتار کیا گیا اور آپ کے لئے نت نئی مشکلات پیدا کی جاتی رہیں۔ کڑے پہرے اور نظر بندی کی وجہ سے حج کے ایام میں آپ سے آپ کے قریبی رشتہ داروں کا ملنا تو درکنار خط پہچانا بھی مشکل ہو کرتا تھا اور جب کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی تو آپ کے مھدیہ کو تالا لگوا دیا گیا۔ لیکن آپ کے اخلاق و کردار اور شخصیت کے رعب کی وجہ سے آل سعود کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ آپ کا سامنا کر سکے۔ 

مدینہ کے علاقے میں بسنے والے عام اہلسنت حضرات بھی آپ کا دل و جان سے احترام کیا کرتے تھے۔ آپ نے مدینہ میں شیعہ طالبعلموں کی علمی پیاس بجھانے کے لئے حوزہ علمیہ کا بھی انتظام کیا لیکن آل سعود نے مھدیہ کی طرح اس علمی درسگاہ کو بھی تالا لگا دیا۔ اسی بنا پر آپ نے مخصوص شاگردوں کی اپنے گھر میں ہی تربیت کرنی شروع کر دی۔ ۶۰ سال دین مبین اسلام کی خدمت، سادگی، گوشہ نشینی اور انکساری کی حالت میں زندگی گذارنے کے بعد ۲۰ محرم کی صبح کو ۸۹ سال کی عمر میں آپ دارفانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

منبع : irib.ir
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس