تاریخ شائع کریں۱۷ آبان ۱۳۹۲ گھنٹہ ۹:۱۹
خبر کا کوڈ : 145049
مولانا ناصر عباس جعفری :

عزاداری سید الشہداء در حقیقت عالمی یذیدی قوتوں کے مد مقابل عظیم تحریک کا نام ہے

تنا (TNA) برصغیر بیورو
محرم کا مہینہ نواسہ رسول (ص) امام حسین (ع) کی عظیم قربانی کی یاد کو تازہ کر تا ہے، جس میں اما م حسین(ع) نے دین خدا کی حفاظت، مظلوموں کی حمایت اور ظالم و فاسق نظام حکومت کے مقابلے میں قیام کیا۔
عزاداری سید الشہداء در حقیقت عالمی یذیدی قوتوں کے مد مقابل عظیم تحریک کا نام ہے
تقریب نیوز (تنا): محرم کا مہینہ نواسہ رسول (ص) امام حسین (ع) کی عظیم قربانی کی یاد کو تازہ کر تا ہے، جس میں اما م حسین(ع) نے دین خدا کی حفاظت، مظلوموں کی حمایت اور ظالم و فاسق نظام حکومت کے مقابلے میں قیام کیا،اپنی جان، مال اولاد اور اصحاب کی عظیم قربانیاں راہ خدا میں پیش کیں، کربلا تمام انسانوں کے لئے بالعموم اور مسلمانوں کے لئے بالخصوص راہ نجات ہے، مقصد قیام امام حسین (ع) کا اہم نکتہ معاشرتی بے تفاودگی کا خاتمہ ہے، پاکستان ظالم و فاسد نظام حکمرانی کی بدولت نفرتوں کی جہنم میں جل رہا ہے، عصر کی یذیدی، فرعونی اور نمرودی قوتوں سے مقابلے کے لئے سیرت سید الشہداء امام حسین (ع) پر عمل پیرا ہو نے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا راجہ ناصر عباس جعفری نے ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے مرکزی میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امام عالی مقام علیہ السلام نے اس دور کے فاسق وفاجر حاکم کے مقابلے میں قیام کر کے رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ حکومت اور ظلم ایک ساتھ نہیں چل سکتے، معاشرے میں ظلم واستبداد کے مقابل اسٹینڈ لینا، دینی اقدار کی پاسداری کے لئے گھر بار چھوڑنا، شعائر اسلامی پر آنچ نہ آنے دینا یہ سنت امام حسین (ع) ہے، امام حسین (ع) کے اصحاب و انصار نے وفا و ایثار کی وہ اعلیٰ مثالیں میدان کربلا میں پیش کی جو تا قیامت اسوہ و نمونہ عمل ہیں۔ آج انسانی معاشرہ بالعموم اور پاکستانی معاشرہ بالخصوص ناامنی، دہشت گردی اور اخلاقی انہتاط میں مبتلاہے، سچ کے مقابلے میں جھوٹ رواج پا رہا ہے، حق کے مقابلے میں باطل کو پروان چڑھا یا جا رہا ہے، فاسد اور ظالم قوتوں نے اقوام کو جکڑ رکھا ہے، اخوت اور بھائی چارگی کا قتل عام ہو رہا ہے، لوگوں کو ناامنی کے جہنم میں دھکیل کر ان کو خوفزدہ رکھ کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے، ہمارے معاشرے میں ہر جانب مایوسی غالب آرہی ہے، خون آشام درندہ صفت مٹھی بھر دہشت گردوں نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان یذیدی قوتوں کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔

مولانا راجہ ناصر عباس جعفری نے مذید کہا کہ معاشرے میں رائج ان بدعتوں سے مقابلے اور ان فاسد قوتوں کو شکست دینے کے لئے اسوۂ حسینی (ع) کو اپنا شعار بنانا ہو گا، نفرتوں کو مٹا کر محبتوں کو رواج دینا ہو گا، بدامنی کو ختم کر کے امن کو نا فذ کر نا ہو گا تقسیم در تقسیم کو ختم کر کے اتحاد و اخوت کو رائج کر نا ہو گا، کربلا ایک ایسی عظیم درسگا ہ ہے جو ظلم و استبداد کے مقابلے میں قیام کی طاقت بخشتی ہے، معاشرے میں اصلاح کا عمل اورظلم وفساد سے نجات سیرت امام حسین (ع) پر چل کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے ہمارے حکمران اگر ضعف اور کمزوری سے نجات پاکر اور اس گو مگو کی کیفیت سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو سیرت امام حسین (ع) کی پیروی کریں، اگر حکمران چاہتے ہیں کہ ہمارے وطن اور اہل وطن کا نام باوقار ملکوں اور کامیاب قوموں میں شمار ہو تو اما م عالی مقام(ع) کو اپنا مقتدیٰ اور پیشوا تسلیم کریں، انہوں نے حکومت کو مخاطب کر تے ہو ئے کہا کہ عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر نے کے بجائے درندہ صفت یزیدی دہشت گردوں کا راستہ روکیں کیوںکہ عصر کی یذیدی، فرعونی اور نمرودی قوتوں کا مقابلہ حسینی جذبے سے ہی ممکن ہے، اگر حکمران وطن دشمن اور امن دشمن قوتوں سے نجات چاہتے ہیں تو حسینی عزم کے ساتھ میدان میں ڈٹ جائیں۔ عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام در حقیقت عالمی یذیدی قوتوں کے مد مقابل عظیم تحریک کا نام ہے غم حسین(ع) ایسا مقدس غم ہے جو مردوں کو حیات، کمزوروں کو طاقت، بے زبان کو قوت گویائی عطا کر تا ہے اور بے حوصلوں کو حوصلہ دیتا ہے، ملتو ں کو جرائت اور شجاعت سکھاتا ہے، غم حسین (ع) ایسا مقدس غم ہے جو رسول اللہ (ص) کے قلب مقدس میں بھی تھا، رسول اللہ (ص) کے باوفا اصحاب و اہل بیت اطہار (ع)کے دلو ں میں بھی محفوظ تھا، یہ غم ہر شریف انسان کے دل میں بستا ہے، یہ غم اتنا قیمتی و مقدس ہے کہ اگر یہ غم نہ ہو تا بشریت حق و باطل میں تمیز نہ کر پاتی، غم حسین (ع) منانا رسول اللہ (ص)، امہات رسول (ص) اور اصحاب رسول (ص) کی سنت ہے۔ لہٰذا حکومت وقت اس سنت رسول (ص) کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش سے باز رہے۔

انہوں نے علماء، ذاکرین بانیان مجالس اور عزاداران کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ مجالس عزاء کے انعقاد میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ہماری جانب سے فقط محبت، اخوت اور وحدت کا پرچار ہو، کسی دوسرے مسلمان کی دل آزاری کا سامان فراہم نہ کیا جائے، سامعین کے اندر ظلم کے خلاف مقاومت کی ترویج کی جائے، ثانی زہراسلام اللہ علیہا کی سیرت کو مد نظر رکھ کر مظلومیت کو طاقت میں بدلنے کا عزم کیا جائے، ممبر رسول(ص)عزائے حسین کی ترویج و عزاداری کا عظیم زریعہ ہے، اس ممبر سے سوئے استفادہ نہ کریں، طول تاریخ میں ہر زمانے کی باطل قوتوں نے عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے خلاف بند باندھے کی کوشش کی ظلم وستم کی عظیم داستانیں رقم کیں لیکن رسول خدا (ص) اور اہل بیت علیہ السلام سے عشق رکھنے والوں اور تمام باضمیر انسانوں نے اپنی جان، مال، عزت ناموس اور اولاد کی قربانیاں تو دیں لیکن عزاداری سید الشہداء علیہ السلام پر کسی قسم کی آنچ تک نہیں آنے دی، لہٰذا علماء، ذاکرین بانیان مجالس اور عزاداران ایک پاکیزہ امانت کے امین ہیں جسے اپنی آنے والے نسلوں تک ایمانداری کے ساتھ پہنچانا بھی ہمارا فرض ہے۔
منبع : شیعت نیوز
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس