تاریخ شائع کریں۲۶ مهر ۱۳۹۲ گھنٹہ ۱۲:۳۳
خبر کا کوڈ : 143299

شیعہ عالم دین کا آل سعود کے بادشاہ کے ساتھ ایک خوبصورت مناظرہ

تنا (TNA) برصغیر بیورو
عصر رسالت سے لے کر اب تک وہابیوں کے علاوہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلامی مقدسات کا احترام اور قبور معصومین(ع) کی تعظیم جائز ہے۔
شیعہ عالم دین کا آل سعود کے بادشاہ کے ساتھ ایک خوبصورت مناظرہ

تقریب نیوز (تنا): عصر رسول اسلام(ص) سے لے کر اب تک وہابیت اور علمائے آل سعود کے علاوہ تمام مسلمان اسلامی مقدسات اور قبور ائمہ(ع) و اولیاء کا احترام کرنے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں صرف وہابیت ایسا ٹولہ ہے جو ان آخری صدیوں میں معرض وجود میں آیا ہے اور اجماع مسلمین کے برخلاف اسلامی مقدسات کے احترام کو شرک سمجھتا ہے، مسلمانوں کے خون کو مباح گردانتا ہے اور مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ کر انتشار پھیلاتا ہے۔ 

صاحب کتاب المراجعات سید شرف الدین سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبد العزیز کے دور حکومت میں خانہ خدا کی زیارت کے لیے مکہ تشریف لے گئے۔ عید قربان کا دن تھا اور تمام علماء کو بادشاہ کے دربار میں دعوت دی گئی تھی تاکہ معمول کے مطابق سب علماء جمع ہو کر بادشاہ کو مبارک باد پیش کریں۔ سید شرف الدین بھی دربار بادشاہ میں پہنچے جب بادشاہ کو مبارک باد دینے کی آپ کی باری آئی تو آپ نے قرآن کریم کا ایک نسخہ ہدیہ کے طور پر بادشاہ کو دیا جس کی جلد بکرے کی کھال کی بنی ہوئی تھی۔ بادشاہ نے ہدیہ لیا اور اسے بوسہ کیا اور احتراما اسے اپنی پیشانی سے مس کر کے رکھ دیا۔ 

سید شرف الدین نے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے فورا کہا: اے بادشاہ صاحب! آپ نے بکرے کی کھال کو کیوں بوسہ دیا اور اس کا احترام کیوں کیا جبکہ آپ دیکھ رہے کہ یہ جلد تو صرف بکرے کی کھال ہے؟ 

بادشاہ نے کہا: جلد کو بوسہ کرنے سے میرا مقصد اس قرآن کی تعظیم کرنا ہے جو اس جلد کے اندر ہے نہ جلد۔ 

سید شرف الدین نے فورا کہا: بہت خوب بادشاہ صاحب! ہم شیعہ بھی جب روضہ پیغمبر کی ضریح کا بوسہ لیتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں تو ہم لوہے کا بوسہ تھوڑا لیتے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوہا ہے اور یہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے ہمارا بوسہ لینے کا مقصد اور احترام کرنے کی غرض خود رسول خدا(ع) ہوتے ہیں ہم ان کا احترام اور اکرام کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے قرآن کا احترام کرنے کے لیے اس کی جلد کا بوسہ لیا۔ 

حاضرین مجلس نے تکبیر بلند کی اور سید شرف الدین کی باتوں کی تصدیق کی۔ اسی وقت ملک عبد العزیز نے مجبورا حکم دیا کہ حاجیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ روضہ رسول(ص) کا بوسہ لیں اور اس کا احترام کریں۔ جب تک ملک عبد العزیز زندہ رہا ضریح کو چومنے کی اجازت رہی، جب وہ مر گیا تو اس کے جانشین نے دوبارہ پچھلی سیرت دھرا دی اور حاجیوں کو ضریح چومنے سے منع کر دیا۔

منبع : ابنا
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس