تاریخ شائع کریں۲۲ مهر ۱۳۹۲ گھنٹہ ۱۳:۲۱
خبر کا کوڈ : 143131
رہبر معظم انقلاب اسلامی کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اہم پیغام:

عالم اسلام کو درپیش مشکلات کا علاج پرچم توحید کے سائے میں اتحاد اور دشمن کی شناخت اور اس کے منصوبوں کےمقابلہ کے ذریعہ ممکن ہے

تنا (TNA) برصغیر بیورو
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اپنے ایک اہم پیغام میں حج کو امت اسلامی کی عظیم الشان عید اور عالم اسلام کی مشکلات کے علاج کے لئے معجز نما موقع قراردیا ہے اور اسلامی بیداری کو کچلنے اور غیر مؤثر بنانے، مسلمان قوموں اور مسئلہ فلسطین جیسے بنیادی مسائل کو حاشیہ پر دھکیلنے کے سلسلے میں صہیونی نیٹ ورک اور عالمی سامراجی محاذ کی ہمہ گير تلاش و کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: پرچم توحید کے سائے میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و برادری اور دشمن کی شناخت اور اس کی معاندانہ روشوں اور منصوبوں کا مقابلہ، حج کے عظيم دروس اور عالم اسلام کی مشکلات اور مصائب کا اساسی اور بنیادی علاج ہے۔
عالم اسلام کو درپیش مشکلات کا علاج پرچم توحید کے سائے میں اتحاد اور دشمن کی شناخت اور اس کے منصوبوں کےمقابلہ کے ذریعہ ممکن ہے
تقریب نیوز (تنا): رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اپنے ایک اہم پیغام میں حج کو امت اسلامی کی عظیم الشان عید اور عالم اسلام کی مشکلات کے علاج کے لئے معجز نما موقع قراردیا ہے اور اسلامی بیداری کو کچلنے اور غیر مؤثر بنانے، مسلمان قوموں اور مسئلہ فلسطین جیسے بنیادی مسائل کو حاشیہ پر دھکیلنے کے سلسلے میں صہیونی نیٹ ورک اور عالمی سامراجی محاذ کی ہمہ گير تلاش و کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: پرچم توحید کے سائے میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و برادری اور دشمن کی شناخت اور اس کی معاندانہ روشوں اور منصوبوں کا مقابلہ، حج کے عظيم دروس اور عالم اسلام کی مشکلات اور مصائب کا اساسی اور بنیادی علاج ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذيل ہے:

                                                     بسم الله الرحمن الرحيم
الحمدلله رب العالمين و الصلوة والسلام علي سيدالانبياء و المرسلين و علي آله الطيبين و صحبه المنتجبين

حج کے موسم کی آمد کو امت اسلامی کی عظیم عید شمار کرنا چاہیے۔ یہ گرانقدر ایام اورغنیمت موقع ہر سال مسلمانوں کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ ایک طلائي اور معجزنما موقع ہے اگر اس کی قدر و قیمت کو پہچانا جائےاور اس سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جائے تو عالم اسلام کو در پیش بہت سے مسائل و مشکلات اور چیلینجوں کا حل نکل آئے گا۔

حج فیض الہی کا موجیں مارتا ہوا چشمہ ہے، آپ تمام سعادتمند حاجیوں کو اس وقت یہ عظیم مرتبہ حاصل ہوگيا ہے کہ صفا و صمیمیت اور معنویت سے لبریز اعمال و مناسک حج میں اپنے دل و روح کو اچھی طرح دھوئيں اور انھیں پاک و صاف بنائيں اور اپنی تمام عمر کے لئے رحمت و قدرت و عزت کا شاندار ذخیرہ اکٹھا کریں۔ اللہ تعالی کے سامنے تسلیم و خشوع اور جو ذمہ داریاں مسلمانوں کے دوش پر رکھی گئی ہیں ان کی نسبت عہد و وفا پر عمل، نشاط و حرکت اور دین و دنیا کے کام میں اقدام، مسلمان بھائيوں کے ساتھ گفتگو و تعامل میں رحم، عفو اور در گذر، سخت و دشوار حوادث کے مد مقابل ہمت اور خود اعتمادی، ہر چیز اور ہر جگہ اللہ تعالی کی مدد و نصرت پر امید؛ مختصر یہ کہ آپ مسلمان کے ہم پلہ انسان کی ساخت کو ان ایام میں الہی تعلیم و تربیت کے میدان میں اپنے لئے حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو ان زیورات سے آراستہ و پیراستہ بنا سکتے ہیں اور ان ذخیروں سے فائدہ اٹھا کر ان کو اپنی قوم اور اپنے ملک کے لئے اور سرانجام امت اسلامی کے لئے سوغات اور ہدیہ کے طور پر لے جا سکتے ہیں۔

امت اسلامیہ کو آج ایسے انسانوں کی سخت اور زيادہ سے زيادہ ضرورت ہے جو خلوص، صفا اور ایمان کے ساتھ عمل و فکر اور معاند دشمنوں کے مقابلے میں مقاومت و پائداری کو معنوی اور روحی خودسازی کے ساتھ فراہم کریں۔ اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کو ایسی مشکلات اور دشواریوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے جو عزم و ایمان اور بصیرت کی کمی اور دشمن کی آشکارا عداوتوں کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر کئی عرصہ سے موجود ہیں۔

بیشک موجودہ دور مسلمانوں کی بیداری اور تشخص کا دور ہے اور اس حقیقت کو ان چیلنجوں کے ذریعہ بھی درک کیا جاسکتا ہے جن سے آج اسلامی ممالک روبرو ہیں، اور اس حقیقت کو بھی بالکل درک کیا جاسکتا ہے کہ ایسے ہی شرائط میں پختہ عزم و ایمان، توکل، بصیرت اور تدبیر کے ذریعہ مسلمان قوموں کو ان چيلنجوں کے مقابلے میں کامیابی اور سرافرازی سے ہمکنار کیاجاسکتا ہے اور ان کی تقدیر میں عزت و عظمت کو رقم کیا جاسکتا ہے، دشمن محاذ جو امت اسلامیہ کی عزت و بیداری کو برداشت نہیں کرسکتا وہ اپنی تمام قوت و قدرت کے ساتھ میدان میں پہنچ چکاہے اور وہ تمام سیاسی، اقتصادی، نفسیاتی، فوجی اور تبلیغاتی وسائل کے ذریعہ مسلمانوں کو کچلنے، منفعل کرنے اور انھیں آپس میں لڑانے کے لئے استفادہ کررہا ہے۔
منبع : leader.ir
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس