تاریخ شائع کریں۲۳ شهريور ۱۳۹۲ گھنٹہ ۱۱:۱۱
خبر کا کوڈ : 140556
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم :

سینتالیس ممالک کا بیان بحرینی باشندوں کے حقوق کی پامالی کی المناکیوں کا آئینہ دار

تنا (TNA) برصغیر بیورو
بحرین کے بزرگ عالم دین اور منامہ کے نواحی علاقے الدراز کی مسجد امام صادق(ع) کے امام جمعہ و جماعت آیت الله شیخ عیسی احمد قاسم نے جمعہ (13ستمبر 2013 کو) نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بحرین کے اس ملک کی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں و اداروں کے بیرونی تعلقات محدود کرنے کے سلسلے میں خلیفی وزیر قانون کے فیصلے پر کڑي نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 47 ملکوں کا بیان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی نہایت افسوسناک صورت حال ان ممالک کی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔
سینتالیس ممالک کا بیان بحرینی باشندوں کے حقوق کی پامالی کی المناکیوں کا آئینہ دار
تقریب نیوز (تنا): رپورٹ کے مطابق آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے نماز جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں کہا: یہ جو حکومت سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے روکنا چاہتی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ حکمران چاہتے ہيں کہ وہ تمام مخالف جماعتیں اور تنظیمیں جو دوسرے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کرکے انہیں بحرین میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں، وہ ناکارہ اور مہمل و بے معنی تنظیموں میں بدل جائیں اور بامر مجبوری عوامی اور انسانی فرائض کو ترک کرے اپنی سیاسی بقاء کے لئے حکومت کا ساتھ دینا شروع کریں۔

بحرین کے اس نامی گرامی عالم دین نے کہا: یہ قوانین اور یہ شدید دباؤ اس لئے ہے کہ حکومت مخالفین اور حزب مخالف کی صدا بند ہونی چاہئے اور تمام مخالفین حکومت کے ساتھ ہوں؛ حتی اگر ان کے تمام تر حقوق سلب ہوں پھر بھی وہ حکومت کے ساتھ رہیں۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی چوبیسویں نشست میں بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش پر مبنی 47 ملکوں کا بیان اس حقیقت کا غماز ہے کہ یہ ممالک اس ملک میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال کی نسبت فکرمند ہیں۔

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے مزید کہا: بحرینی حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سابقہ اجلاس کی سفارشات نیز بسیونی کی سرکردگی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا اور انسانی حقوق کی پامالی اور آزادی اظہار کی سرکوبی کا سلسلہ جاری رکھا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس ملک میں افراد یا سیاسی تنظیموں کے لئے اظہار کی آزادی نامی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔

انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت ایسے حال میں انسانی حقوق کی پامالی کی بنا پر لائق مذمت ٹہھری ہے کہ اس حکومت نے اپنی تمام تر کوششیں حقائق کو الٹ پلٹ کر پیش کرنے پر صرف کی ہے جو بذات خود بحرین میں انسانی حقوق کی نازک صورت حال کا ثبوت ہے۔

شیخ عیسی قاسم نے کہا: انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں میں 47 ملکوں کا بیان بحرین میں انسانی حقوق کی نازک صورت حال پر بین الاقوامی شہادت کے مترادف ہے؛ وہ بحرین جس کے تمام باشندے ایک المناک بحران کا سامنا کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شریک 47 ملکوں ـ منجملہ امریکہ و برطانیہ ـ نے ایک بیان میں بحرین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فورا بند کرے۔

اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ بحرین کے حالات نے بہت زیادہ تشویش اور فکرمند کے اسباب فراہم کئے ہیں؛ ہمیں بطور خاص پرامن اجتماع بپا کرنے اور جماعتیں تشکیل دینے کے حق کی پامالی اور مظاہروں کی سرکوبی سے شدید فکرمندی لاحق ہے اور حکومت بحرین کے اہلکاروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد آمیز اقدامات سے پرہیز کریں۔
منبع : ابنا
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس