ایران میں دہشتگردی کے خلاف 6 ملکی کانفرنس کا انعقاد

اسپیکر کانفرنس کا افتتاح صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کیا
ایران، پاکستان، ترکی، چین، روس اور افغانستان پر مشتمل چھے ملکی اسپیکرز کانفرنس ہفتے کی صبح تہران میں شروع ہوئی۔دہشت گردی گے خلاف جنگ اور علاقائی رابطوں کی تقویت پر زور
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۷ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۰۱
موضوع نمبر: 384299
 
ایران، پاکستان، ترکی، چین، روس اور افغانستان پر مشتمل چھے ملکی اسپیکرز کانفرنس ہفتے کی صبح تہران میں شروع ہوئی۔دہشت گردی گے خلاف جنگ اور علاقائی رابطوں کی تقویت کے عنوان سے ہونے والی اسپیکر کانفرنس کا افتتاح صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کیا ہے۔

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے دوسری چھے ملکی اسپیکر کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے واقعات، اس لعنت کی مختلف شکلوں کی بیخ کنی کے حوالے سے ایرانی حکومت اور عوام کے عزم و ارادے میں ذرہ برابر بھی خلل نہیں ڈال سکتے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قیام سے لیکر آج تک دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے لیکن اس کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی۔صدر ایران نے کہا کہ انیس سواکیاسی میں ہونے والے بم دھماکے اور پچھلے چالیس برس کے دوران امریکہ اور مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں سترہ ہزار سے زائد ایرانیوں کی شہادت ایسے نقصانات ہیں جو ایران کو اٹھانا پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں عشرے کے اوائل میں بیرونی طاقتوں کے ایجنٹوں کے ہاتھوں ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی شہادت، سن دوہزار سترہ کے اوائل میں ایرانی پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کا حملہ نیز حال ہی میں اھواز میں اور دو روز قبل چابہار میں پیش آنے والا دہشت گردی کا واقعہ بھی ایران کو دہشت گردی سے پہنچنے والے نقصانات ہیں۔صدر ایران نے طاقتور خطے کے قیام کے لیے آٹھ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس خطے کو طاقتور بنانے کے منصوبے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔صدر حسن روحانی نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑنے والا ملک جو پاکستان کو طعنے دیتا ہے، افغانستان کی تذلیل کرتا ہے، ترکی کو تنبیہ کرتا ہے، روس کو دھمکیاں دیتا ہے اور ایران پر پابندیاں ‏عائد کرتا ہے، عالمی تعلقات میں دراڑیں ڈالنے والا سب سے بڑا ملزم ہے اور ہم امریکہ کے مقابلے میں ڈٹے رہیں گے۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم امریکہ کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جہاں چاہیے تباہی پھیلائے اور اس کے اخراجات بھی دوسروں سے وصول کرے۔
Share/Save/Bookmark