سعودی حکومت کی یمنی رہائشی علاقوں پر وحشیانہ بمباری

سوئیڈن میں یمن کے بحران کے حل کے لئے مذاکرات جاری ہیں
سوئیڈن میں یمن کے بحران کے حل کے لئے مذاکرات جاری ہیں سعودی حکومت بدستور یمن کے رہائشی علاقوں پر وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۷ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۴۷
موضوع نمبر: 384294
 
ایک ایسے وقت جب سوئیڈن میں یمن کے بحران کے حل کے لئے مذاکرات جاری ہیں سعودی حکومت بدستور یمن کے رہائشی علاقوں پر وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے شمالی صوبہ صعدہ کے باقم اور زعافہ علاقوں پر بمباری کی ہے جس میں یمنی شہریوں کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے مغرب صوبے الحدیدہ کے شہرالحادی کے علاقوں اور الجبانہ اور شارع تسعین پر کئی بار حملے کئے۔ سعودی جنگی طیاروں نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب بھی یمنی ماہیگروں کی کشتیوں پر بمباری کی جس میں چار یمنی ماہیگر جاں بحق ہوگئے۔

سعودی عرب نے یمن پر حملے ایک ایسے وقت تیز کردئے ہیں جب سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں یمن کے بحران کے حل کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔

یمن امن مذاکرات کا چوتھا دور چھے دسمبر سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفتھس کی موجودگی میں شروع ہوا ہے۔

اس درمیان اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے امور کے ادارے کی ترجمان شابیا مانتو نے سوئیڈن میں اپنے بیان میں کہا  ہے کہ گذشتہ اگست سے اکتوبر تک کے تین مہینے میں یمن میں جتنے افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں ان میں تینتیس فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر اس عرصے میں دوسو سترہ خواتین اور بچے جاں بحق اور دو سو اڑسٹھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ یمن میں ہر ہفتے اوسطا ایک سو تیئیس عام شہری جاں بحق ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں لڑائیوں کی وجہ سے لوگوں کے گھر اور اسپتال بھی محفوظ نہیں ہیں اور اسپتالوں پر حملوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریض بھی  دوران علاج جاں بحق ہوگئے جبکہ بسوں اور گاڑیوں پر بھی ہوئے حملوں میں سیکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ پناہ گزیناں کے اعداد و شمار کے مطابق یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے آغاز سے اب تک پینسٹھ ہزار یمنی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں جن میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سولہ ہزار ہے۔ یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں کو چار سال  کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس انسانی المئے کو ختم کرانے کے لئے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدام سامنے نہیں آسکا ہے جبکہ حملوں کی وجہ سے یمن بھوک مری کا شکار ہوگیا ہے اور بائیس ملین افراد کو فوری طور پر انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے۔
Share/Save/Bookmark