انتونیو گوٹیرس کو یمن اور فلسطین کے علاوہ قتل و غارت کی فکر ستانے لگی

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا
قتل عام ایک جان بوجھ کر کیا جانے والے منصوبہ بند جرم ہے اور اس کے لئے سخت تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۷ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۴:۴۴
موضوع نمبر: 384205
 
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ قتل عام کے جرائم راتوں رات نہیں ہوتے لہذا بین الاقوامی برادری اس پر رائےزنی کی بجائے انہیں روکنے پر توجہ مرکوز کرے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جمعہ کو قتل عام کے جرائم کی روک تھام اور سزا اور قتل عام کے متاثرین کو خراج عقیدت کے بین الاقوامی دن کی 70 ویں سالگرہ کے ایک پروگرام میں کہا کہ قتل عام ایک جان بوجھ کر کیا جانے والے منصوبہ بند جرم ہے اور اس کے لئے سخت تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے جس میں وقت لگتا ہے۔ قتل عام میں لگنے والا وقت دنیا کو اس پر کارروائی کرنے کا بھی وقت دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا، فکر کی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری کئی بار اس کے انتباہی اشارے کو سمجھ کربھی جلد فیصلہ نہیں کرپاتی اور قتل عام کو روکنے کی بجائے اس پر رد عمل ہی ظاہر کرتے ہیں جب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت یمن میں مظلوم یمنیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور عالمی ادارے تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کی بات کرنے والے امریکہ نے یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو یمنی عوام کے قتل عام کیلئے فری ہینڈ دے دیا ہے۔
Share/Save/Bookmark