یمن مذکرات کو سلامتی کونسل کے ذریعہ منظوری ملنی چاہیے

ایک مسودہ قرارداد کی شکل میں اس کو نافذالعمل بنایا جانا چاہئے
یمن سے متعلق امن مذاکرات کے نتائج کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے منظوری ملنی چاہئے اور ایک مسودہ قرارداد کی شکل میں اس کو نافذالعمل بنایا جانا چاہئے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۶ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۰۷
موضوع نمبر: 383929
 
سوئیڈن میں یمن امن مذاکرات میں شریک عوامی تحریک انصاراللہ کے وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ یمن سے متعلق امن مذاکرات کے نتائج کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے منظوری ملنی چاہئے اور ایک مسودہ قرارداد کی شکل میں اس کو نافذالعمل بنایا جانا چاہئے۔

یمن سے متعلق امن مذاکرات میں شامل انصاراللہ کے وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے المیادین ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے بارے میں سوئیڈن امن مذاکرات میں بیس سے زائد ملکوں کے نمائندوں کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ سیاسی طریقہ کار کے علاوہ کسی بھی مسئلے کا فوجی طریقے سے حل نہیں نکل سکتا-

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس سولہ پر جو یمن پر جارح سعودی اتحاد کے حملوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش تھی نظر ثانی کی جانی چاہئے- سلامتی کونسل کی قرارداد  بائیس سولہ اقوام متحدہ کے ساتویں منشور کے تحت  اپریل دو ہزار پندرہ میں انصاراللہ کے خلاف پاس ہوئی تھی-

اس قرارداد کے حق میں چودہ ارکان نے ووٹ دیئے تھے جبکہ روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا- مذکورہ مسودہ قرارداد میں یمنی عوام پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کا ذکر کئے بغیر اس کی منظوری دے دی گئی تھی اور اس میں مفرور اور معزول صدر منصور ہادی کی بھی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا-
Share/Save/Bookmark