یقین ہے محمد بن سلمان قتل میں براہ راست ملوث ہیں

خاشقجی کے قتل کے حوالے سے امریکی سینیٹ کے اراکین کو بریفنگ دی
امریکی سینیٹرز نے سینٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کی ڈائریکٹر جینا ہسپیل کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات پر بریفنگ کے بعد کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس میں براہ راست ملوث ہیں۔
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۱۴ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۵۶
موضوع نمبر: 383580
 
سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے امریکی سینیٹ کے اراکین کو بریفنگ دی۔

امریکی سینیٹرز نے سینٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کی ڈائریکٹر جینا ہسپیل کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات پر بریفنگ کے بعد کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس میں براہ راست ملوث ہیں۔

امریکی سینیٹرلنڈ سے گراہم کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد صحافی  جمال خاشقجی قتل کے میں شامل تھے۔ سی آئی اے چیف کی بریفنگ سے خدشات درست ثابت ہوئے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کی مخالفت بھی کی جبکہ دیگر سینیٹرز نے  سعودی ولی عہد کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔ سینیٹرباب کارکر نے کہا کہ ولی عہد عدالت میں جلد مجرم ثابت ہوں گے۔

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار اور سعودی نژاد امریکی رہائشی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ صحافی کی گمشدگی کے کچھ دن بعد ترکی کا موقف سامنے آیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ خاشقجی کو قتل کیا گیا ۔

خاشقجی کی گمشدگی کے بعد مغرب کی طرف سے سعودی عرب پر دباؤ بہت بڑھ گیا تھا کہ وہ اس گمشدگی کے بارے میں قابل اعتبار وضاحت دے۔ کئی مغربی ممالک نے سعودی عرب میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کا بھی صحافی کے قتل کے معاملہ پر بائیکاٹ کیا۔

خیال رہے کہ امریکی سینیٹ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے اتحادی کو اس واقعے پرشدید دباؤ میں رکھنے پر زور دینے کے بعد سی آئی اے کی جانب سے بریفنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے کسی کو بھی ذمہ دار قرار دینے سے گریزاں تھے اور مبہم بیانات دے چکے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس طرح کے بیانات سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹرز نے گزشتہ ہفتے ایک قرارداد پیش کی تھی جس کا مقصد تھا کہ یمن میں سعودی اتحاد سے تعاون معطل کر دیا جائے۔

گزشتہ دنوں امریکا کی دونوں جماعتوں کے سینیٹرز نے اس بات پر غصے کا اظہار کیا تھا کہ سی آئی اے ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے بند کمرے کے سیشن میں انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو بریفنگ نہیں دی تھی۔ کئی سینیٹرز نے واشنگٹن پوسٹ سے منسلک جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر امریکی جواب کو ناکافی قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ سی آئی اے کی ایک ٹیم نے رواں برس اکتوبر میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے بیدردی سے قتل کی تفتیش کرکے اپنی رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کی تھی جس میں  قتل کی منصوبہ بندی میں سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت کے ملوث ہونے کا اشارہ کیا گیا ہے۔
Share/Save/Bookmark