یمن میں تباہی کی زمہ داری امریکہ کے کاندھوں پر ہے

یمن کے وزیر خارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا ہے
امریکہ یمن کی تباہی اور یمنی عوام کے قتل عام نیز یمن میں دنیا کا بدترین المیہ رونما ہونے کا باعث بنا ہے۔
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۱ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۵۴
موضوع نمبر: 382461
 
یمن کے وزیر خارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ یمن کی تباہی اور یمنی عوام کے قتل عام نیز یمن میں دنیا کا بدترین المیہ رونما ہونے کا باعث بنا ہے۔

یمن کی قومی حکومت کے وزیر خارجہ ہشام شرف نے یمن میں امریکی سفیر میتھیو ٹیلر کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا بیان سفارتی آداب و اصول کے منافی ہے۔
یمن میں امریکی سفیر نے یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی مسلط کردہ تباہ کن جنگ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کو یمن کی صورت حال بگاڑنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
یمن کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی سفیر نے یہ بیان دے کر خود اپنے ملک کو فراموش کر دیا ہے جو گذشتہ چار برس سے سعودی اتحاد کی بھرپور حمایت کر کے یمن کے دسیوں ہزار عام شہریوں کے شہید اور زخمی نیز لاکھوں دیگر کے بے گھر ہونے کا باعث بنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکا نے جارح سعودی اتحاد کی حمایت کرکے ، یمن کی بنیادی تنصیبات کو تباہ کر نے اور اس ملک میں دنیا کا بدترین انسانی المیہ رقم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
یمن کے وزیر خارجہ ہشام شرف نے اسی طرح تاکید کی ہے کہ امریکی حکام اگر اپنے بیانات میں یمن کے خلاف جنگ بند کرانے میں سنجیدہ ہوتے تو وہ سعودی اتحاد پر بھرپور دباؤ ڈالتے تاکہ یمنی عوام کے خلاف جارحیت کا سلسلہ بند ہو جاتا اور اسی طرح وہ امن کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی کوششوں کی حمایت کرتے۔
دریں اثنا یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمنی فریقوں کے مذاکرات سے قبل سعودی اتحاد کی جانب سے کسی بھی طرح کی کوئی شرط عائد کیا جانا قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی کوششوں کے مقابلے میں روڑے اثکانے جیسا ہے۔
یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ جارح سعودی اتحاد کی جانب سے شرطوں کی تکرار کا مقصد، یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے اقدامات کو ناکام بنانا ہے اور گذشتہ تمام مذاکرات کے نتیجہ بخش نہ ہونے کی بھی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گذشتہ مذاکرات کے ناکام ہونے کی وجہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بے جا شرط عائد کیا جانا رہا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ جنیوا میں ستمبرکے مہینے میں یمنی فریقوں کے درمیان امن مذاکرات ہونے والے تھے ، تاہم سعودی اتحاد نے ان مذاکرات میں یمنی وفد کی شرکت میں رکاوٹ پیدا کر دی۔
دوسری جانب یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن فضل ابوطالب نے اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاراللہ کو سوئیڈن میں ہونے والے یمن کے امن مذاکرات میں شرکت کا دعوت نامہ مل گیا ہے۔
Share/Save/Bookmark