سعودی عرب میں خاشقجی قتل مقدمے کی کارروائی اطمینان بخش نہیں

صحافیوں سے گفتگو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا
صحافیوں سے گفتگو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ سعودی عرب میں مقدمے کی کارروائی اطمینان بخش نہیں ہے، سعودی عرب ملزمان کو ترکی کے حوالے کرے۔
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۱ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۵۰
موضوع نمبر: 382458
 
امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے اور بعد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان 11 پیغامات کے تبادلے ہوئے تھے۔

جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ سعودی عرب میں مقدمے کی کارروائی اطمینان بخش نہیں ہے، سعودی عرب ملزمان کو ترکی کے حوالے کرے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا اور سعودی ولی عہد نے اس کیس میں سعودی حکومت کے کردار سے متعلق ناقابل یقین توجیہہ پیش کی ہے۔

دوسری جانب امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے اور بعد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان 11 پیغامات کے تبادلے ہوئے تھے۔

امریکی اخبارنے اپنی  رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی انتہائی خفیہ رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان قتل کے وقت پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔

اخبار کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جمال خاشقجی کا قتل محمد بن سلمان کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ سی آئی اے کے ترجمان نے مذکورہ رپورٹ پر تبصرے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
Share/Save/Bookmark