ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے پر گہری تشویش ہے

امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے کہا
امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۹ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۴:۴۵
موضوع نمبر: 381790
 
امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

واشنگٹن کے قریب واقع ایک فوجی چھاؤنی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران ایکشن گروپ کے سرغنہ برائن ہک نے ایک بار پھر اس دعوے کا اعادہ کیا کہ ایران یمنی قوتوں کو ہتھیار ارسال کر رہا ہے جو بقول ان کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بھی منافی ہے۔
ہک نے دعوی کیا کہ ان کے پاس یمنی قوتوں کے لیے ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافے کے حوالے سے دستاویزات بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکہ میزائلوں اور بموں کے ٹکڑے دکھا کر دعوی کر رہا ہے کہ ایران نے یمن اور افغانستان کو وافر مقدار میں ہتھیار بھیجے ہیں۔   
امریکہ نے یہ دعوی ایسی وقت میں کیا ہے جب یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر خارجہ ہشام شرف عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایران سے کسی بھی قسم کے ہتھیار درآمد نہیں کیے اور صنعا کے پاس موجود بیلسٹک میزائل سابق سویت یونین کے دور میں خریدے گئے تھے جو ہمارے اسلحہ خانوں میں آج بھی موجود ہیں۔
امریکہ کے ایران ایکشن گروپ کے سرغنہ برائن ہک کی پریس کانفرنس اور ہتھیاروں کے ٹکڑوں کا ناٹک دکھائے جانے کے فورا بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے اسے امریکی اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا جس کا مقصد جنگ یمن اور سعودی جنگی جرائم کے حوالے سے پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ساری دنیا جانتی ہے کہ اس قسم کی ناٹک بازی کا دور ختم ہو گیا ہے اور اس شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کا کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔
روزنامہ انڈی پینڈینٹ کے مطابق امریکہ سعودی عرب میں آمریت کی حمایت کرتا ہے اور یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ جنگ یمن کا اصل ذمہ دار کون ہے، لکھا ہے کہ امریکہ سمیت مغربی طاقتیں اس وحشتناک جنگ میں سعودیوں کی فوجی اور لاجسٹک حمایت کر رہی ہیں لیکن ایران کی سرزنش کرتی ہیں۔
اخبار کے مطابق اگر جنگ یمن میں سعودی حکومت کی حمایت بند کرنے کے بارے میں امریکی سینیٹ میں ہونے والی بحث پر غور کیا جائے تو، یمن کے حوالے سے ایران کے خلاف برائن ہک کا دعوی خود بخود بے بنیاد ثابت ہو جاتا ہے۔
امریکی سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر مائک لی نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ  امریکہ کو یمن کی خونی جنگ میں حصہ نہیں لینا چاہیے، یمن میں قتل عام امریکی حمایت کے نتیجے میں جاری ہے۔ جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار بے گناہ یمنی مارے جا چکے ہیں، اور سعودی عرب کی حمایت میں امریکہ کے مداخلت پسندانہ اقدامات نے یمن کی صورت حال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔
خطے کی موجودہ صورت حال ایران کو تنہا کرنے کی امریکی پالیسیوں اور اقدامات کی ناکامی کا ثبوت ہے۔  یہی وجہ ہے کہ امریکی کام گاہے بگاہے، اصل معاملات سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لیے ایرانوفوبیا کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ تاہم ایک بات پوری طرح واضح ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی تبدیلیوں میں بری طرح شکست کھا چکے ہیں۔
Share/Save/Bookmark