سری لنکن فوج کے اعلی افسر کو قتل کے الزام میں تحقیقات کا سامنا

قتل کو چھپانے کے الزام میں 5 دسمبر تک ریمانڈ پر بھیج دیا
سری لنکا کی فوج کے سربراہ کو عدالت نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران 11 نوجوانوں کے قتل کو چھپانے کے الزام میں 5 دسمبر تک ریمانڈ پر بھیج دیا۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۸ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۰:۱۱
موضوع نمبر: 381680
 
سری لنکا کی فوج کے سربراہ کو عدالت نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران 11 نوجوانوں کے قتل کو چھپانے کے الزام میں 5 دسمبر تک ریمانڈ پر بھیج دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سری لنکا کی فوج کے سربراہ کو عدالت نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران 11 نوجوانوں کے اغوا کے بعد قتل کو چھپانے کے الزام میں 5 دسمبر تک ریمانڈ پر بھیج دیا۔ ایڈمرل روندرا وجے گنارتنے وہ اعلیٰ ترین فوجی افسر ہیں جنہیں عدالت نے خانہ جنگی کے دوران کسی جرم میں ملوث ہونے پر سزا سنائی ہے، خیال رہے کہ سری لنکن فوج کو خانہ جنگی کے دوران شہریوں کے خلاف بدترین مظالم کا قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔

طاقت ور چیف آف ڈیفنس کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ایک اہم گواہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور کیس سے ایک پولیس مخبر کو ہٹوادیا۔ قتل میں مرکزی ملزم، جو نیوی کا انٹیلی جنس افسر تھا، کو تحفظ فراہم کرنے اور جرم کو چھپانے کے الزامات سے انکار کیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ فوجی سربراہ کے خلاف 3 وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے لیکن انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا اور پیش ہونے کے بجائے صدر کے سفیر کی حیثیت سے میکسیکو کے دورے پر چلے گئے تھے۔

خیال رہے کہ سری لنکا کے اعلیٰ فوجی افسران پر دہائیوں سے جاری رہنے والی خانہ جنگی کےدوران سنگین جرائم اور شہریوں سے بدسلوکی کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن اب تک وہ استغاثہ کی طرف سے استثنیٰ حاصل کرتے آئے ہیں۔ اس بارے میں تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ ایڈمرل روندرا وجے گنارتنے نے 11 افرادکے قتل میں مرکزی ملزم چندانہ پرساد ہیٹیا رچی کو معاونت فراہم کی جو ایک نیول انٹیلی جنس افسر تھا۔

مذکورہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے 2009 میں اختتام پذیر ہونے والی خانہ جنگی کے آخری ایام کے دوران امیر نوجوانوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا اور بعدازاں قتل کردیا جبکہ ان نوجوانوں کی لاشیں آج تک نہیں مل سکیں۔
Share/Save/Bookmark