روسی فوج بارڈر کے نزدیک آچکی ہے جنگ ہوسکتی ہے

یوکرین کے صدر نے روس کے ساتھ جنگ کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا
یوکرین کی سرحدوں پر روسی ٹینکوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ایزوف سی اور جزیرہ نمائے کریمیا کے علاقے میں روسی بحری جہازوں کے گشت میں بھی قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ہے۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۸ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۲:۴۵
موضوع نمبر: 381595
 
یوکرین کے صدر نے روس کے ساتھ جنگ کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے ہماری سرحدوں کے قریب فوجی نقل و حرکت میں اضافہ کر دیا ہے۔

دارالحکومت کی ایف میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یوکرین کے صدر پیٹرو پروشنکوف نے کہا ہے کہ یوکرین کی سرحدوں پر روسی ٹینکوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ایزوف سی اور جزیرہ نمائے کریمیا کے علاقے میں روسی بحری جہازوں کے گشت میں بھی قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی حمایت کرتے ہوئے گروپ بیس کے اجلاس میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ طے شدہ ملاقات کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے بلیک سی کے علاقے میں یوکرینی جہازوں کو روسی بحریہ کے ہاتھوں ضبط کیے جانے کے بارے میں امریکہ قومی سلامتی کونسل کی متوقع رپورٹ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوتین کے ساتھ ملاقات کا دارو مدار اس رپورٹ پر ہو گا۔
قابل ذکر ہے کہ اتوار کے روز  تین یوکرینی جنگی جہاز آبنائے کرچ کو عبور کر کے جزیرہ نمائے کریمیا میں روسی سمندری حدود میں داخل ہو گئی تھیں جس پر روسی بحریہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور فریقین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ روس نے یوکرینی جنگی جہازوں کو ضبط کر لیا ہے۔
 درایں اثنا یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے روس سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرینی جہازوں اور اس کے عملے کو فوری طور پر آزاد کر دے۔
Share/Save/Bookmark