اسرائیل اور عرب ممالک ہر دور سے زیادہ قریب آگئے ہیں

اسرائیل براعظم افریقہ کے قلب میں قدم جمانے کے لیے تیار ہے
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۶ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۲۰
موضوع نمبر: 381278
 
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ تعلقات کو معمول پر لانے کی غرض سے عنقریب خطے کے عرب ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس میں چاڈ کے صدر ادریس دیبی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل براعظم افریقہ کے قلب میں قدم جمانے کے لیے تیار ہے۔
نتن یاہو نے پندرہ اکتوبر کو صیہونی پارلیمینٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور عرب ممالک ہر دور سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔
پچھلے چند ماہ کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
 عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب صیہونی حکومت نے عرب اور اسلامی سرزمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور برسوں سے فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے۔
 شام، عراق اور یمن کا بحران بھی متحدہ عرب امارت، سعودی عرب اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اور مذکورہ ٹرائیکا عراق اور شام میں دہشت گرد گروہوں کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔
یمن کو پچھلے پینتالیس ماہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ہمہ گیر جارحیت کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ عام شہری مارے جا چکے ہیں۔
Share/Save/Bookmark