سعودی عرب اور عرب امارات سے مخالفت ان کی ظالمانہ روش کی وجہ سے ہے

لاریجانی ۳۲ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب میں:
انھوں نے اس علاقے میں اسلحے کے مقابلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: علاقے میں کافی مقدار میں اسلحہ وارد ہو رہا ہے اور بعض ممالک نے اپنے وسعت سے تین گنا زیادہ اسلحہ خریدا ہے۔
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۵ آذر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۳۷
موضوع نمبر: 381116
 
لاریجانی ۳۲ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب میں:
سعودی عرب اور عرب امارات سے مخالفت ان کی ظالمانہ روش کی وجہ سے ہے
۳۲ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے اسٹاف رپورٹر کی خبر کے مطابق، قومی اسمبلی کے اسپیکر علی لاریجانی نے آج رات اس اجلاس کی اختتامی تقریب میں اپنے تقریر میں وحدت کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ اہم نکات جن کا ہمیں علاقے میں سامنا ہے وہ علاقے میں ہونے والی حرکات ہیں کہ ہمیں اس معرکہ کو صحیح سے پہچاننا ہوگا تاکہ غلط راستے پر نہ چل پڑے۔
لاریجانی نے امنیت خراب کرنے کے لے علاقے میں ہونے والی حرکت کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایسا اس صورت میں ہے کہ جب شیعہ و سنی کئی سالوں سے ایک ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اور کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے لیکن اس کی جڑ، نا امنی کا یہ بحران دہشت گروہ کی تشکیل کی طرف پلٹتا ہے جو خلافت کا ادعا کرتے اور خون بہاتے تھے۔
انھوں نے اس علاقے میں اسلحے کے مقابلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: علاقے میں کافی مقدار میں اسلحہ وارد ہو رہا ہے اور بعض ممالک نے اپنے وسعت سے تین گنا زیادہ اسلحہ خریدا ہے۔
اسپیکر نے غاصب صیہونیوں کو اسلام کا اصلی دشمن جانا اور مزید کہا: ہماری سعودی عرب اور عرب امارات کی مخالفت ان کے ظلم و جبر کی وجہ سے ہے اور ہم اس وجہ سے ان پر اعتراض کرتے ہیں۔
Share/Save/Bookmark