امریکی وزیر خارجہ کی ایرانی عوام کو دھمکی

امریکی وزیرخارجہ نے گستاخانہ اور اہانت آمیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے
امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیئو نے کہا ہے کہ ایران کے سامنے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ امریکا کی بات مان لے اور امریکا کے ساتھ ہوجائے بصورت دیگر ایرانی عوام کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۹ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۴۳
موضوع نمبر: 376074
 
امریکی وزیرخارجہ نے گستاخانہ اور اہانت آمیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام اگر چاہتے ہیں کہ ان کے پاس کھانے پینے کی کچھ چیزیں موجود رہیں تو انہیں امریکا کی بات ماننی ہوگی

امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیئو نے کہا ہے کہ ایران کے سامنے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ امریکا کی بات مان لے اور امریکا کے ساتھ ہوجائے بصورت دیگر ایرانی عوام  کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی - پمپیئو نے مزید کہا کہ ایران کے اعلی حکام مجبور ہیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ ا پنے عوام کو اشیائے خورد و نوش فراہم کرنا چاہتے ہیں یا نہیں - پمپیئو کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام منجملہ خود وزیرخارجہ پمپیئو نے پانچ نومبر کو ایران مخالف پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد دعوی کیا تھا کہ ایران مخالف پابندیوں کا اطلاق  اشیائے خورد و نوش اور دواؤں پر نہیں ہوگا - اور ان پابندیوں میں ایرانی عوام کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پانچ نومبر کو ایران کے خلاف ان پابندیوں کو جنھیں ایٹمی معاہدے میں کالعدم قراردیا گیا تھا دوبارہ عائد کئے جانے کے بعد معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ملکوں روس ، چین ، جرمنی ، فرانس،  برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سے ملکوں خاص طور پر ایران سے تیل خریدنے والے ممالک نے اعلان کردیا ہے کہ وہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کی پروا کئے بغیر تہران کے ساتھ  اپنے تجارتی تعلقات کو برقرار رکھیں گے - دریں اثنا یورپی یونین کی ترجمان مایا کوتسیانچیچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے یورپی یونین نے اپنی کوشش تیز کردی ہیں - ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے حکام کی کوششیں خاص طور پر نئے مالیاتی نظام ایس پی وی کے قیام پر مرکوز ہوگئی ہیں - امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے اور ایران مخالف پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا - یہ پابندیاں دو مرحلوں میں ایران پر عائد کی گئیں پہلے مرحلے کی پابندیاں سات اگست سے نافذ ہوئیں جبکہ دوسرے مرحلے کی پابندیاں پانچ نومبر سے عائد کی گئیں - ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے فیصلے کی عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی جبکہ معاہدے کے دیگر فریقوں نے کہا ہے کہ وہ اس کو باقی رکھنے کے لئے پرعزم ہیں-
Share/Save/Bookmark