امریکہ فوری طور پر شام سے اپنے فوجی واپس بلائے

اقوام متحدہ میں مستقل شامی مندوب بشار جعفری نے کہا
اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر شام سے اپنے فوجی واپس بلائے
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۱۵ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۰۲
موضوع نمبر: 375240
 
اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر شام سے اپنے فوجی واپس بلائے

اقوام متحدہ میں مستقل شامی مندوب بشار جعفری نے شام کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ امریکہ کی زیرکمان نام نہاد داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد، اب تک شام میں ہزاروں عام شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کر چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ہی شام میں دہشت گردی کی حمایت کرتے رہے ہیں جبکہ سلامتی کونسل کے رکن مغربی ممالک، اقوام متحدہ کے پلیٹ  فارم سے شامی قوم کے خلاف اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی عوام کے خلاف امریکی اتحاد کی جارحیت بند کرانے کے لئے فوری اقدام کرےانھوں نے کہا کہ شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں مغرب کا الزام محض ایک جھوٹ ہے اور دمشق نے کبھی کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا ہے۔  شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے کہا کہ ان کا ملک کیمیائی ہتھیاروں کے ہر طرح کے استعمال کی مذمت کرتا ہے اور سلامتی کونسل سے اس بات کا خواہاں ہے کہ وہ اسرائیل کو ایٹمی اور کمیائی ہتھیاروں سے عاری کرنے کی کوشش کرے۔شام کے صدر بشار اسد نے حال ہی میں کہا ہے کہ مغرب نے شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں ایک سیناریو تیار کیا ہے تاکہ اس کے تحت شام کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز فراہم کیا جا سکے۔شام کے صدر بشار اسد نے کہا کہ یہ سیناریو اس وقت سامنے آتا ہے کہ جب شامی فوج کے ہاتھوں دہشت گردوں کو بڑی شکست ہونے لگتی ہے۔بیشتر ماہرین، شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے کو رائے عامہ کو گمراہ کرنے نیز دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کی پردہ پوشی اور حقائق کو تور مروڑ کر پیش کئے جانے کی کوشش قرار دیتے ہیں اس لئے کہ شام میں دہشت گردوں کو ہونے والی شکست پر امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کو گہری تشویش لاحق ہے۔قابل ذکر ہے کہ شام کا بحران دو ہزار گیارہ میں سعودی عرب اور امریکہ نیز اس اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو حملوں سے شروع ہوا جس کا اہم ترین مقصد علاقے کا توازن   غاصب صیہونی حکومت کے حق میں تبدیل کرنا رہا ہے۔
Share/Save/Bookmark