سعودی اتحاد کی افواج کو یمن میں ناکامی اور ذلت کا سامنا

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیر یحیی سریع نے کہا ہے
سعودی اتحاد کی فوج کو ہر طرح کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے دشمنوں کو شکست سے دوچار کر دیا ہے اور یمن کے مغربی ساحل میں سعودی اتحاد کی افواج کو ناکامی کے علاوہ ذلت و رسوائی کا سامنا ہے۔
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۳ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۲۵
موضوع نمبر: 374389
 
سعودی اتحاد کی فوج کو ہر طرح کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے دشمنوں کو شکست سے دوچار کر دیا ہے اور یمن کے مغربی ساحل میں سعودی اتحاد کی افواج کو ناکامی کے علاوہ ذلت و رسوائی کا سامنا ہے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیر یحیی سریع نے کہا ہے کہ مغربی ساحل پر المطار کے علاقے اور اسی طرح سولہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع جنگی مورچوں پر سعودی اتحاد کی کارروائی اور پھر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں سعودی اتحاد کے کم از کم ایک سو تیرہ فوجی اہلکار ہلاک اور ایک سو چھپّن دیگر زخمی ہو گئے۔

بریگیڈیر یحیی سریع نے کہا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج نے جارح سعودی اتحاد کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

یمنی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن کی وزارت دفاع، چیف آف آرمی اسٹاف اور یمنی فوج کے کمانڈرز محاذوں پر جاری دفاعی کارروائیوں کی نگرانی اور یمن کی مسلح افواج مکمل طرح سے آمادہ ہیں۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے استقامت کے بعد سعودی عرب کی فوج اپنے ملک کے جنوبی علاقے جیزان میں بھی بے بس ہو گئی ہے اور جیزان کی تویلق پہاڑیوں میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی استقامت کے نتیجے میں سعودی فوج کی کارروائی شکست سے دوچار ہو گئی ہے۔

سعودی فوج اور یمنی فوج و عوامی رضاکار فورس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سعودی فوج کے کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے۔

دریں اثنا یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے کہا ہے کہ یمنی فوج کی کارروائی سے دشمنوں کی افواج میں ہلچل مچ گئی ہے اس لئے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی دشمنوں کے مقابلے میں نہایت مضبوط واقع ہوئی ہے اور مختلف علاقوں میں سعودی اتحاد کی افواج کے مقابلے میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی برتری کا بخوبی مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود یمنی فوجی کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں اس ملک کے مختلف جنوبی علاقوں میں قائم سعودی فوجی ٹھکانوں پر تابڑتوڑ میزائل حملے کر رہی ہے۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے۔
Share/Save/Bookmark