امریکا کی ایٹمی معاہدے سےعلحیدگی کے بعد ایران بدل گیا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کی تکرار کرتے ہوئے کہا
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کی تکرار کرتے ہوئے کہ ایران ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے سے پہلے والا ایران نہیں رہ گیا ہے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے پر سوالیہ نشان لگایا۔
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۲ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۴۱
موضوع نمبر: 374100
 
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کی تکرار کرتے ہوئے کہ ایران ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے سے پہلے والا ایران نہیں رہ گیا ہے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے پر سوالیہ نشان لگایا۔

امریکی صدر نے ریاست مغربی ویرجینیا کے اپنے دورے سے قبل ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے اپنے یورپی اتحادیوں اورسلامتی کونسل کی کھلی توہین کرتے ہوئے اس بین الاقوامی معاہدے کو احمقانہ قراردیا ۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ جب سے امریکا ایٹمی معاہدے سے الگ ہوا ہے بقول ان کے ایران بہت بدل گیا ہے اور جیسے ہی پابندیوں کا آغاز ہوگا ایران پر کاری ضرب لگے گی۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایک طرف جہاں امریکی انتظامیہ نے یہ کہا ہے کہ پانچ نومبر سے ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد ہوجائیں گی وہیں دوسری جانب  اس نے ان پابندیوں سے آٹھ ملکوں کو مستثنی کردیا اور کہا ہے کہ یہ ممالک ایران سے تیل خرید سکتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ پمپیئو نے ان آٹھ ملکوں کو مستثنی قراردیتے وقت اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکا کی دھمکیون کے باوجود ان ملکوں نے ایران سے تیل خریدنا بند نہیں کیا اور نہ ہی اس میں کمی کی۔
Share/Save/Bookmark