ملت عراق اور ایران نے اربعین حسینی کی نہضت کو تشکیل دیا ہے

مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ "آیت اللہ اراکی" نے کہا
جو شخص بھی سنی بھائیوں کو تحمل نہیں کرسکتا وہ شیعہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ اہلبیت ؑ کی محبت نکتہ اتفاق ہے اور انسانوں کو محبت کے رشتے میں باندھ دیتی ہے اور جہاں کہیں بھی اختلاف ہے یعنی وہاں محبت اہلیبیت علیھم السلام موجود نہیں ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۱ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۱۶
موضوع نمبر: 373757
 
ملت عراق اور ایران نے اربعین حسینی کی نہضت کو تشکیل دیا ہے

مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ "آیت اللہ اراکی" نے تقریب کے خبر نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،اربعین حسینی ایک عظیم شاہکار جس نے پوری دنیا کو اپنے طرف متوجہ کرلیا ہے اور ایک شاہکار دینی ہے جس کی مثال مغرب میں نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا شیعہ ہونا ایک وسیع اور بزرگ مفہوم ہے ،محبت رسول و آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وحدت ساز ہے اور امت مسلمہ کو وحدت کی ڈور میں پرو دیتی ہے۔
آیت اللہ اراکی نے کہا ایران اور عراق جنگ کے دوران ہم ہزاروں عراقی شہیدوں کی قربانی کے شاہد ہے جنہوں نے صدام کے خلاف ایران اور نظام ولایت کا ساتھ دیا اور اس وحدت کی بنیاد اہلیبیت ؑ کی محبت تھی۔
انہوں نے کہا امریکہ اور یورپ کی ثقافت نے انسان سے انسانی اقدار کو چھین لیا اور اس کو وحشی گر انسان میں تبدیل کردیا ہے، کیسے ممکن ہے کہ فلسطین اور یمن میں معصوم بچوں کا قتل عام کیا جائے اور یہ انسانیت کے علم بردار خاموش تماشائی بنے رہیں۔
انہوں نے کہا جو شخص بھی سنی بھائیوں کو تحمل نہیں کرسکتا وہ شیعہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ اہلبیت ؑ کی محبت نکتہ اتفاق ہے اور انسانوں کو محبت کے رشتے میں باندھ دیتی ہے اور جہاں کہیں بھی اختلاف ہے یعنی وہاں محبت اہلیبیت علیھم السلام موجود نہیں ہے۔
اربعین حسینی ملت عراق اور ایران کے درمیان فقط وحدت کا باعث نہیں ہے بلکہ یہی امام زمان عجل تعالی شریف کی حکومت کا مقدمہ ہے جس کی بازگشت رسول اور اہلبیت رسول ﷺ تک ہے ۔
انہوں نے آخر میں کہا شیعہ ہونا فقط امام اثنا عشری ہونے تک محدود نہیں بلکہ اسکا دائرہ بہت وسیع ہے البتہ اس دائرہ کا حد اقل امامان اثنا عشری پر عقیدہ رکھنا ہے بس ہر وہ شخص جو علی علیہ اسلام سے محبت کرتا ہے وہ انکا شیعہ ہے اور اس سے نفرت نہیں کی جا سکتی۔
Share/Save/Bookmark