ٹرمپ انتطامیہ ایرانی تیل پر پابندیوں کے جال میں پھنس گئی

ایران کے خلاف پابندیاں ‏عائد کرنے کی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں ناکام رہی
امریکا کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ دیگر ممالک ایران کے خلاف امریکا کی خودسرانہ پالیسیوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۰ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۳۴
موضوع نمبر: 373568
 
امریکا کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ دیگر ممالک ایران کے خلاف امریکا کی خودسرانہ پالیسیوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔

واشنگٹن ٹائمز نے خبر دی ہے کہ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹین نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا اعتراف اور اس کی ناکامی کا لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے ممالک شاید ایران کے تیل کی درآمدات کو فوری طور پر بند نہ کر سکیں-

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ ایران کے خلاف تیل کی پابندیاں عائد کر کے اپنے دوستوں اور اتحادیوں کو مشکل میں ڈالے- امریکا کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر جان بولٹن کا یہ بیان ایران سے تیل کی درآمدات کو بند کرنے کے لئے دیگر ملکوں کو قائل کرنے میں واشنگٹن کی ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے-

ہندوستان اور چین نے ایرانی تیل کے دو بڑے خریدار ممالک کی حیثیت سے پہلے ہی ایران کے تیل پر عائد امریکی پابندیوں کی مخالفت کر دی تھی- ان دونوں ملکوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی اس پابندی کی پیروی نہیں کریں گے-

ان مخالفتوں کے بعد امریکی وزارت خزانہ نے واشنگٹن کے سابقہ موقف سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے ان ملکوں کو ایران سے تیل کی خریداری کی چھوٹ دے دی تھی-

اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی لکھا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں ‏عائد کرنے کی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں- مذکورہ اخبار نے چار نومبر سے ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے نفاذ  کے بارے میں لکھا ہے کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے اور جب تک ان پابندیوں اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار میں قابل ذکر حد تک تبدیلیاں نہیں آجاتیں، ایران کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسیاں ناکام رہیں گی-

اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی خبر دی ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں سوئیفٹ کی جگہ نئے مالی نظام کے قیام پر مبنی یورپی ملکوں کے تازہ ترین اقدامات کے بعد امریکی حکومت، ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کے سلسلے میں بری طرح پھنس گئی ہے-

اس درمیان فرانس کی سینیٹ میں یورپی امور کے کمیشن نے ایران کے بارے میں امریکا کی نئی پابندیوں کو یورپ کی قانونی اور اقتصادی خود مختاری کے لئے ایک بڑی آزمائش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو چاہئے کہ وہ اس چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کریں-

فرانس کی سینیٹ میں یورپی امور سے متعلق کمیشن نے ایٹمی معاہدے سے امریکا کے یکطرفہ طور پر نکلنے اور ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے ٹرمپ کے اعلان کو امریکا کی غیر منطقی روش کا ایک نمونہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے میں یورپی یونین کو چاہئے کہ وہ اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خود مختاری کا دفاع اور ایٹمی معاہدے کے تعلق سے امریکا کی خودسری کا مقابلہ کرے اور اس بات کی اجازت نہ دے کہ ایران مخالف امریکا کی نئی پابندیاں ایٹمی معاہدے پر منفی اثرامت مرتب کر سکیں-

  فرانس کی سینیٹ میں یورپی امور سے متعلق کمیشن نے کہا کہ امریکا کی یہ خودسری صرف ایران تک ہی محدود نہیں ہے اور یورپ خاص طور پر فرانس کو اس بات کی تشویش ہے کہ واشگنٹن، مستقبل میں یورپ کے ساتھ کئے گئے اپنے معاہدوں کو بھی کہیں کالعدم قرار نہ دے دے-
Share/Save/Bookmark