جمال خاشقچی قتل کیس میں ترکی کی سعودی عرب کو وارننگ

سعودی ولیعہد بن سلمان سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ رابطے کی بدولت وہ ہر طرح کا قدم اٹھا سکتے ہیں
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اگر مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس کی تحقیقات میں دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا تو ترکی اس کیس میں قانونی کارروائی شروع کر دے گا۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۸ آبان ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۳۶
موضوع نمبر: 373112
 
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اگر مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس کی تحقیقات میں دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا تو ترکی اس کیس میں قانونی کارروائی شروع کر دے گا۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کا ملک، سعودی حکومت مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس سے متعلق قانونی کارروائی میں سعودی عرب کی لاپروائی اور ٹال مٹول کے اقدام کو برداشت نہیں کرے گا اور اس سلسلے میں اپنی قانونی کارروائی شروع کردے گا۔

انھوں نے کہا کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کا قتل، ترکی کے شہر استنبول میں ہوا ہے اور ترکی اس قتل کیس میں قانونی کارروائی کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کچھ دنوں قبل سعودی عرب کو تجویز پیش کی تھی کہ مخالف صحافی کے قتل کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی ترکی میں کی جائے مگر سعودی عرب نے ترکی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی سعودی عرب میں ہی کی جائے گی۔

دوسری جانب جمال خاشقجی کے قتل کیس کے سلسلے میں سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود بن عبداللہ بن مبارک المعجب پیر کے روز ترکی کے شہر استنبول پہنچے۔النشرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود بن عبداللہ بن مبارک المعجب نے ترکی کا یہ دورہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی واردات کے بعد کیا ہے۔

جمال خاشقجی، ترکی کی اپنی منگیتر سے شادی سے متعلق کا غذات تیار کرانے کے لئے دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے تھے اور پھر پتہ چلا کہ سعودی ولیعہد بن سلمان کے قریبی سیکورٹی اہلکاروں نے ان کا قتل کر دیا اور ان کی لاش کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور باغچے میں دفن کر دیا گیا اور سرانجام جمال خاشقجی کے قتل کی پوری سازش بے نقاب ہو گئی اور قتل کی تفصیلات سامنے آنے لگیں اور سارے رازوں سے پردہ اٹھتا چلا گیا۔

دریں اثنا برطانوی اخبار ایکسپریس نے اعلان کیا ہے کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں برطانیہ کے پاس ساری معلومات موجود تھیں۔اس اخبار کے مطابق جمال خاشقجی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مخالف صحافی سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں تمام رازوں کو بے نقاب کرنے والے تھے۔

برطانیہ کے آزاد ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں برطانیہ کو تین ہفتے قبل ہی سب کچھ معلوم تھا۔

ادھر امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما کے خارجہ پالیسی کے مشیر بین روڈز نے کہا ہے کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کا حکمراں ٹولہ ملوث رہا ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ وائٹ ہاؤس کی اطلاع کے بغیر اس قسم کا کوئی قتل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے سوئیزرلینڈ کے اخبار ٹگس انسائیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولیعہد بن سلمان صرف ایک قانون پر عمل کرتے ہیں اور وہ اقتدار کا حصول اور اس کا تحفظ کرنا ہے۔

امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما کے خارجہ پالیسی کے مشیر بین روڈز نے کہا کہ سعودی ولیعہد بن سلمان سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ رابطے کی بدولت وہ ہر طرح کا قدم اٹھا سکتے ہیں۔

انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ جن کی بنا پر ریاض کو ہر قسم کی آزادی مل رہی ہے، کہا کہ ان پالیسیوں کے تحت ہی سعودی ولیعہد یمن کے خلاف جارحیت اور وہاں عام شہریوں کا خون بہاتے رہے ہیں۔ان پالیسیوں کی بدولت ہی سعودی عرب نے قطر کا محصرہ کیا اور لبنان کے اندرونی امور میں مداخلت کی ہے۔
Share/Save/Bookmark